خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 39
خطبات طاہر جلدے 39 39 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء منہدم کی گئیں یا کسی اور رنگ میں ان کو نقصان پہنچایا گیا نہ صرف یہ کہ ان کو بحال کرنا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ توسیع دینی ہے، زیادہ وسعت کے ساتھ ، زیادہ خوبصورت ، زیادہ مفید عمارت میں تبدیل کرنا ہے، سیدنا بلال فنڈ کی تحریک، دفاع اسلام بمقابلہ تحریک شدھی۔یہ بھی وہ تحریک ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جاری فرمائی تھی اور بیچ میں پھر عدم ضرورت کی وجہ سے تقریبا پچاس برس یا اس سے زائد عرصہ کا انقطاع ہوا اور نئی ضرورت کے پیش نظر نئی تحریک کی گئی۔دار الیتامی کے قیام کی تحریک اور ایسی جگہوں کے مثلاً ایلسلواڈور کے بچوں کو اپنانے کی تحریک جو یتیم رہ گئے ہوں آسمانی حادثات کے نتیجہ میں مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کی اشاعت کی تحریک۔اب یہ وہ تحریکیں ہیں جو صرف گزشتہ چند سال کے عرصہ پر پھیلی پڑی ہیں، اس عرصہ میں کی گئی ہیں۔اگر عام عقلی حساب لگایا جاتا یا جماعت کی اقتصادی حالت کے پیش نظر یہ سوچا جاتا کہ جماعت اس قابل بھی ہے کہ نہیں کہ اتنے بڑے بوجھ اٹھا سکے تو انسانی عقل تو نہ اس کی اجازت دے سکتی تھی اور نہ ایسی تحریک کے کامیاب ہونے کا کوئی امکان تھا اور انسانی دل بار بار ایسی تحریکات کے لئے عام حالات میں جرات ہی نہیں رکھ سکتا اور حوصلہ نہیں پیدا ہوتا کہ ایسی جماعت کو جس پر بے شمار بوجھ پہلے ہیں اور دوسرے چندوں میں جو مستقل حیثیت رکھتے ہیں اور ایسی تحریکات میں جو پہلے سے جاری ہیں اور مستقل نوعیت کی ہیں ان میں اضافے کی تو بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی ، ان سب کے ہوتے ہوئے کیسے کوئی مزید توقع رکھے اور پھر جماعت کو نئی نئی قربان گاہوں کی طرف بلائے۔یہ خیال اپنی ذات میں عجیب ہے لیکن جب خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحم کے ساتھ کسی تحریک کی طرف متوجہ فرماتا ہے تو عقل کے نئے پیمانے عطا کرتا ہے اور دل کو نئے حوصلے بخشتا ہے۔اس وقت عام دنیا کی عقل کا حساب نہیں چلتا بلکہ عقل ایسے پرانے تاریخی زمانوں کی طرف لوٹ جاتی ہے جب اسی قسم کی ناممکن باتیں ہمیشہ ممکن کر کے دکھائی گئیں۔جب بظاہر جیبیں خالی ہوتی تھیں اور خدا تعالیٰ کے نام پر تحریک کی جاتی تھی تو وہی جیبیں سونا اگلنے لگتی تھیں اور پھر ان کے اندر خدا تعالیٰ نئی برکتیں پیدا فرما دیتا تھا۔نئی وسعتیں ان لوگوں کے اموال کو عطا ہوتی تھیں جو بظاہر خدا کی راہ میں خالی ہاتھ رہ جاتے تھے۔تو یہ ایک اور قسم کی عقل ہے وہ پیمانے جن پر یہ عقل چیزوں کو نا پتی ہے، وہ پیمانے مختلف ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے کسی موقع پر بھی مجھے اس خوف میں مبتلا نہیں ہونے دیا کہ میں جماعت