خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 443

خطبات طاہر جلدے 443 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء سمجھیں کہ ایک Formality ہے، ایک رسم ہے جس میں سے ہم نے گزرنا ہے اور جو الفاظ ادا کرنے ہیں گویا کہ یہ ٹکسالی الفاظ ہیں، الفاظ ادا ہوئے اور نماز کا حق ادا ہو گیا اور چھٹی مل گئی۔تو اس حالت کی نمازیں اگر ہزار برس بھی آپ پڑھتے رہیں تو آپ کو کوئی مزہ نہیں آئے گا لیکن اگر باشعور طور پر اپنی نماز میں خدا کی یاد داخل کرنے کی کوشش کریں تو نماز کے ہر لفظ میں خدا کی یاد کی کھڑ کی آپ کومل سکتی ہے اور ہر لفظ خدا کی یاد کی کوئی نہ کوئی کھڑی کھولتا ہوا آپ کو دکھائی دے گا پھر آپ اسی نماز میں سے وہی الفاظ پڑھتے ہوئے ہر روز ایک نئے خدا کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ذکر کی تعین نہیں فرمائی گئی کہ میراذکر کیا کرو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ذکر ہر انسان کی کیفیت کے مطابق بدلتا رہتا ہے ہر انسان کی اپنی حالت کے مطابق بدلتا رہتا ہے، ہر انسان کے شعور ، اس کے علم ، اس کے ذاتی تجارب کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے اور پھر جس کیفیت میں سے وہ گزر رہا ہے اس کے نتیجے میں بھی ذکر کا مضمون بدلتا رہے گا۔فرمایا جس طرح کے تم ہو، جس حال میں تم ہو اس حال کی نسبت سے خدا کا تصور باندھو۔اب آپ جب کہتے ہیں سبحان ربی العظیم تو تین کھڑکیاں کھلی ہیں اس میں ذکر کی اور ہر کھڑکی سے آپ ایک ہی خدا کے مختلف نظارے کر سکتے ہیں۔سبحان جب آپ کہتے ہیں پاک ہے تو ہر شخص کی پنی پاکیزگی کی حالت کی نسبت سے اس کا پاکی کا تصور بنتا ہے۔فکر ہر کس بقدر ہمت اوست ہر شخص کے تصور کی چھلانگ اس کی اپنی ہمت اس کی طاقت اور اس پلیٹ فارم کی اونچائی پر منحصر ہے جہاں وہ کھڑا ہے۔تو سبحان کا تصور بھی ہر شخص کا مختلف ہے۔بعض لوگ جو گناہوں میں ملوث ہیں، بار بار کی کوشش کر رہے ہیں گناہوں سے چھٹکارا نہیں ملتا اور پھر ایک نہیں متعدد بیمار یوں میں مبتلا ہیں وہ جب سبحان پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن میں وہ ابتدائی گناہ آئیں گے اور کثرت کے ساتھ ذہن کبھی اس گناہ کی طرف جائے گا کبھی اس گناہ کی طرف جائے گا۔کبھی اس کمزوری کی طرف کبھی اس کمزوری کی طرف اور انسان سوچے گا کہ سبحان میں کہہ رہا ہوں اپنے رب کو اور میرا یہ حال ہے۔اللہ میں یہ بات بھی نہیں ہے، یہ بات بھی نہیں ہے، یہ بات بھی نہیں ہے، یہ بات بھی نہیں ہے۔سبحان ایک منفی ذکر کی کیفیت کا نام ہے لیکن اس سے پھر حمد کی طرف توجہ منتقل ہو جاتی ہے۔جب ربی کہتے ہیں آپ تو فرماتے ہیں میرا رب ہے یہ اور جب اپنے گناہ کے طرف متوجہ ہوتے ہیں تو پھر