خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 444
خطبات طاہر جلدے 444 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء سوچتے ہیں کہ اچھا پھر یہ میرا رب کیسے ہو گیا یہ تو کسی اور کا رب نظر آرہا ہے۔میرا تو یہ حال ہے مجھے تو شرم آتی ہے اس رب کی طرف منسوب ہوتے ہوئے۔جس طرح بعض لوگ کسی بری حالت میں پکڑے جائیں تو اپنے ماں باپ کا نام ظاہر کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔وہ نہیں بتانا چاہتے کہ وہ کس کے بیٹے ہیں یا کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض دفعہ بڑے بڑے معروف لوگوں کے بچے کسی جرم میں پکڑے جاتے ہیں تو جاسوسوں کو بڑی تحقیق کے بعد پتا کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہیں کون۔ان کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اخباروں میں چھپ جائے گا شہرت و تشہیر ہو جائے گی اور ہمارے خاندان کی بدنامی ہوگی۔یہاں اس طرح تشہیر کا تو سوال نہیں یہ ایک راز ہے خدا اور بندے کے درمیان لیکن ایک سچا بندہ جب سبحان کے مضمون پر غور کرتا ہے تو بہت سی باتیں اس کو ایسی معلوم ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں ربی کہنے کے وقت اس کے وجود کو ایک شدید جھٹکا محسوس ہوتا ہے۔وہ اچانک سوتا ہوا بیدار ہو جاتا ہے کہ اچھا میرا رب اور اگر واقعی میرا رب ہے تو پھر مجھے کچھ نہ کچھ اس کے لئے کرنا پڑے گا ورنہ میرے رب کہنے سے تو میرا رب نہیں بن جائے گا یہ تو مجھے کوئی اور رب معلوم ہوتا ہے۔پھر عظیم کا لفظ آپ کو بتاتا ہے کہ میں نے جو گناہ کئے ہیں میں نے اپنی نظر میں عظمتوں کے تصور باندھے ہیں اپنے لئے اور میں ان کی پیروی کر رہا ہوں۔جب میں خدا کی بات کرتا ہوں تو اس کی عظمت کا تصور مختلف ہے میرے تصور سے حالانکہ عظیم تو خدا ہے۔وہ اس لئے عظیم ہے کہ ان برائیوں سے پاک ہے۔میں ان برائیوں میں رہتے ہوئے عظیم بنے کی کوشش کر رہا ہوں۔تو عظمتوں کے تصور میں جو اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں وہ انسان کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں اور انسان اپنی سوچوں میں نئی تبدیلیاں پیدا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔لیکن ذکر کی نیت سے اگر نماز میں داخل ہو تو پھر یہی نہیں بے شمار ایسے مواقع ہیں جن میں انسان اپنے اپنے رنگ میں اپنی اپنی کیفیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی یاد کرسکتا ہے۔پھر غم کی حالت کی یاد اور ہوتی ہے، خوشی کی حالت کی یاد اور ہوتی ہے۔غم کی حالت میں تو ہم عموماً خدا کی طرف جھکتے ہی ہیں ، خوشی کی حالت میں نسبتاً بہت کم جھکتے ہیں اور صرف خدا کے شکور بندے ہیں جو اس وقت خدا تعالیٰ کی یاد میں مصروف ہوتے ہیں لیکن اگر ہر انسان موحد ہو تو پھر خواہ غم ہو خواہ خوشی ہو لازماً اسے خدا کی طرف جھکنا پڑے گا، بے اختیار وہ خدا کی طرف جھکے گا کیونکہ موحد کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سوا ہے ہی کوئی نہیں اور جائے گا کہاں پھر۔حضرت مصلح موعودؓ