خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 438
خطبات طاہر جلدے 438 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء نہیں کرتا یہ ساری باتیں جو عام فہم ہیں اور ہر مسلمان کو پہلے سے معلوم ہیں اس شدت کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ کیوں بیان کی گئی ہیں۔مثلاً آپ اگر کسی سے کہیں کہ کھانا کھایا کرو تا کہ بھوک مٹ جائے تو کوئی بچہ شوخی سے یہ کہ سکتا ہے کہ اور کس لئے کھانا کھایا جاتا ہے بھوک مٹانے کے لئے ہی تو کھایا جاتا ہے۔یہ کیا بات ہوئی کھانا کھایا کرو تا کہ بھوک مٹ جائے۔اسی قسم کی عام فہم سادہ معروف باتیں ہیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں لیکن اس انداز سے اس خاص شوکت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں قوت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے خدا کوئی پیغام دینا چاہتا ہے جسے غافل بندہ نہیں سمجھتا اور دیکھتے ہوئے بھی اس طرح گزر جاتا ہے جیسے دیکھا نہیں یا دیکھنے کی ضرورت کوئی نہیں کیونکہ میں پہلے سے جانتا ہوں حالانکہ نہیں جانتا۔اس میں جتنی باتیں بھی بیان ہوئی ہیں وہ سب وہ ہیں جن سے انسان یقیناً غافل ہے۔خدا فرماتا ہے میں ہی وہ معبود ہوں جس کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ، میں وہ اللہ ہوں۔امر واقعہ یہ ہے کہ انسان نے اپنی زندگی میں اتنے بت بنارکھے ہیں، اتنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے خدا کے سوا کہ اسے روز مرہ کی زندگی میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ زبان میری ایک خدا کے سوا کسی اور کا اقرار نہیں کرتی اور میرا دل اور میر اعمل اور میری تو جھات اس ایک خدا کے سوا بہت سے دوسرے معبودات کی پرستش کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ اس اعلان کے بعد فرمایا وَ اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى نماز پڑھا کرو میرے ذکر کی خاطر، میری یاد کے لئے۔اب آپ جانتے ہیں کہ خدا کے ذکر کے لئے ہی نمازیں پڑھی جاتی ہیں مگر اس فقرے پر ٹھہر کر سوچنا چاہئے تھا یا سوچنا چاہئے ہر مسلمان کو کہ یہ جو فرمایا گیا ہے تو میں اپنی نماز کو کم سے کم ٹول کے دیکھوں کہ کیا وہ ذکر کی خاطر ہی پڑھ رہا ہوں۔میں جو صبح شام نمازیں پڑھتا ہوں کیا واقعہ وہ نمازیں ذکر الہی سے معمور ہوتی ہیں۔اس سوال کا جواب ہر انسان اپنے تجربے اور اپنے حالات کے مطابق اپنی نمازوں کی کیفیت کے مطابق دے سکتا ہے لیکن اگر بنظر غائر دیکھے گا، اگر حقیقت کی نظر سے دیکھے گا تو وہ عرفان کے کسی مقام پر بھی ہو وہ نفی میں جواب دے گا یعنی اپنے نفس کو نفی میں جواب دے گا کیونکہ جب یہ کہا جائے کہ نماز ذکر الہی کے لئے ہے، خدا کی یاد کے لئے ہے اور اسی غرض سے نماز پڑھا کرو یعنی نماز کو ذکر الہی سے بھر دو تو اس تعریف کی رُو سے نماز کی جو شکل ظاہر ہوتی ہے وہ ہماری اکثر نمازوں میں