خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 436 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 436

خطبات طاہر جلدے 436 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۸ء معلوم ہوتا ہے وہ بچے خود نمازیں پڑھتے تھے ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خود بھی نہ پڑھتے ہوں اور اپنے ماں باپ کیلئے نمازوں کی دعا کی درخواستیں کر رہے ہوں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے یقین ہے کہ اس کے نتیجہ میں جماعت احمد یہ تمام دنیا میں جب نماز کے جہاد میں مشغول ہو جائیگی تو ان نمازوں میں خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھے گا، ان نمازوں میں دعاؤں کی توفیق ملے گی۔مباہلہ کے مضمون پر غور کریں گے اور پھر خدا سے مدد مانگیں گے۔ایک نالی آسمان کی طرف جاتی ہوئی خدا کی رحمت سے بھر پور نہیں ہوگی بلکہ کھوکھا احمدی دلوں سے اٹھنے والی نالیاں آسمان سے تعلق قائم کریں گی اور خدا کی رحمت کا دودھ ان پر نازل ہوگا اور وہ بھر کر چلیں گی۔یہ ہے وہ تصور جو میں نے باندھا ہے کہ اگر جماعت احمد یہ نماوزں کو قائم کرے اور عبادت کی طرف متوجہ ہو تو گویا جگہ جگہ جس طرح بڑ کے درخت سے شاخیں نیچے اترتی ہیں اور زمین سے تعلق قائم کر کے وہ زمین کا رس چوسنے لگتی ہیں اسکے برعکس نظارہ جماعت احمدیہ دکھائے کہ ہر زمین پر عبادت کرنے والے کے دل سے ایک نالی اٹھے، ایک شاخ بلند ہو جو آسمان سے اپنا تعلق قائم کرے اور آسمان کی رحمت کا رس چوسنے لگے۔یہ نظارہ اگر آپ سچا کر دکھائیں اگر تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خدا کی سچی عبادت کرنے والے احمدی پہلے سے بہت بڑھ کر خدا کی عبادت کی طرف متوجہ ہوں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کل نہیں، آج آپ یہ مباہلہ جیت چکے ہیں۔خدا کی وہ تقدیر تو بہر حال ظاہر ہوگی کہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔آپ کا مباہلہ ہو یا نہ ہو خدا تعالیٰ یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ بڑے زور آور حملوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کو تمام دنیا پر ثابت کر کے دکھائے۔یہ خدا کی تقدیر ہے اس میں نہ آپ کا کوئی دخل ہے نہ میرا کوئی دخل ہے، نہ آپ کی کوئی مجال ہے نہ میری کوئی مجال ہے مگر ہاں عبادت کے ذریعہ خدا کی رحمت کی تقدیر کوجلد تر ظاہر کرنے اور روشن تر صورت میں ظاہر کرنے کیلئے ہمیں بہت محنت کی ضرورت ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام احمدی گھروں میں خصوصیت کے ساتھ اسکی طرف توجہ دی جائیگی۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ رمضان جو ابھی چند دن پہلے آ کر گزر گیا تھا، عبادت کے لحاظ سے دوبارہ ہر احمدی گھر میں لوٹ آئے گا اور وہاں ٹھہر جانے کیلئے آئے گا ، وہاں بس رہنے کیلئے آئے گا اور جہاں تک عبادتوں کا تعلق ہے یہ رمضان دائمی ہوگا اور کبھی احمدیوں کے گھروں کو چھوڑ کر واپس نہیں جائیگا۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔