خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 435
خطبات طاہر جلدے 435 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۸ء نمازوں کے معیار کو بڑھاؤ تو تمام دنیا سے ابراھیمی طیور کی طرح خدا کی پاک روھیں دوڑتی چلی آئیں گی اور لبیک لبیک کی آوازیں بلند ہونگی اور دنیا کے ہر کونے میں احمدی کی نماز کا معیار بلند ہونا شروع ہو جائیگا۔دوسری طرف ایک نمازوں کی طرف بلانے والا ایسا ہے جس کو ایک ملک میں پوری جبروت حاصل ہے۔تمام وہ استبداد کی طاقتیں جو ایک آمر کو حاصل ہونی چاہئیں جسکی پشت پناہی پر ملک کی فوج کھڑی ہو وہ ساری قوتیں اسکو حاصل ہیں اس نے بھی اعلان کیا ہے کہ میں نماز کو قائم کرنا چاہتا ہوں لیکن اس کا اعلان دلوں پر حکومت کر نیوالا اعلان نہیں۔وہ بدنوں پر حکومت کرتے ہوئے نماز کو قائم کر نیکا دعویٰ کر رہا ہے۔اب آپ دیکھیں اور دنیا بھی دیکھے گی کہ کسی نماز کا اعلان زیادہ اثر دکھاتا ہے اور کس کی نماز کی طرف بلانے کے نتیجہ میں کثرت سے لوگ دوڑتے ہوئے عبادت کیلئے خدا کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔پس یہ مباہلہ ایک عجیب شان میں ایک دوسری شان سے بھی ظاہر ہوگا اور نمازوں کے ذریعہ جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں خدا تعالیٰ سے غیر معمولی قوت اور برکت پائیگی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے اس کے لیے ہر رنگ میں تائید نازل ہوگی وہاں دوسری طرف خود نمازیں پڑھنے کا نمونہ اور خدا کے نام پر ایک آواز کو سنتے ہوئے لبیک کہتے ہوئے عبادت کے معیار کو ہر جگہ بلند تر کر دینا ایک ایسا ظاہری سچائی کا نشان ہو گا کہ اسکے مقابل پر کوئی اور نشان ایسی چمک نہیں دکھلا سکتا۔کھلا ہوا روشن نشان جس طرح سورج چڑھ جاتا ہے اس طرح کا یہ عبادت کا نشان ہے جو جماعت کے حق میں ظاہر ہو گا۔تو اس پہلو سے میں تمام جماعتوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ اپنے گھروں کا جائزہ لیں۔جہاں عبادت میں کمزوری ہے اُس کمزوری کو دور کریں، جہاں بچے نماز نہیں پڑھتے وہاں انہیں با قاعدہ نماز کی طرف متوجہ کریں، جہاں بڑے نماز نہیں پڑھتے وہاں ان بڑوں کو نماز کی طرف متوجہ کریں، جہاں عورتیں نماز نہیں پڑھتیں انکو متوجہ کیا جائے ، جہاں مرد نماز نہیں پڑھتے انکو متوجہ کیا جائے۔بیویاں خاوندوں پر نگران ہو جائیں اور خاوند بیویوں پر ، ماں باپ بچوں پر نگران ہو جائیں اور وہ بچے جن کو خدا تعالیٰ نے خاص تقویٰ عطا کیا ہے اور خاص محبت بخشی ہے اور وہ پہلے ہی نمازوں کی طرف خاص طور توجہ دیتے ہیں وہ اپنے ماں باپ پر نگراں ہو جائیں اور یہ امر واقعہ ہے کہ ایک دفعہ نہیں متعدد مرتبہ مجھے بعض احمدی بچوں نے بڑے درد ناک خطوط لکھے ہیں کہ ہمارے ماں باپ نماز سے غافل ہیں یا ہماری ماں نماز سے غافل ہے یا ہمارا باپ نماز سے غافل ہے اس کے لیے دعا کریں۔