خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 432
خطبات طاہر جلدے 432 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۸ء جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور جس کو مخاطب کرتے ہوئے خدا نے یہ مضمون کھولا اور ہم کامل یقین رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بچے ہیں اور اسی رسول کے متبع ، اسی کے ماننے والے، اسی کے عاشق صادق ہیں اور اگر آج خدا تعالیٰ نے آپ کو بھی انہیں مقاصد کیلئے بھیجا ہے جن مقاصد کو پورا کرنے کیلئے خدا اس سے پہلے انبیاء کو بھجواتا رہا ہے تو پھر یقیناً آپ دیکھیں گے کہ یہی مضمون پھر جاری ہوگا۔پہلے بھی جاری ہے لیکن افسوس کہ آنکھیں ابھی تک بند ہیں لیکن پھر جاری ہوگا اور زیادہ آنکھیں کھولنے کا موجب بنے گا یہاں تک کہ اگر خدانخواستہ ظلم کرنے والی قوم ظلم سے باز نہ آئی اور عبرت کے نمونے دیکھ کر عبرت نہ پکڑی تو پھر خدا تعالیٰ کی آخری تقدیر ان کے حق میں ضرور ظاہر ہوگی لیکن مباہلہ کی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ تقدیر جو بعد کیلئے مقر تھی پہلے لے آئی جائے اور اسکے دن آگے کر دیئے جائیں۔اس لئے اس مباہلہ کو صرف اس رنگ میں استعمال نہ کریں کہ گویا آپ کا دل ٹھنڈا ہو گیا اور آپ نے ذمہ داری کسی دوسرے کے سر پر ڈال دی اور یہ کہہ کر کہ مباہلہ ہو گیا اب بری الذمہ ہو گئے۔میں اس پہلو پر اب روشنی ڈالنی چاہتا ہوں کہ مباہلہ کے بعد آپ کی ایک بہت ہی اہم ذمہ داری ہے ، ہم سب کی ایک اہم ذمہ داری ہے، ساری جماعت کو اس ذمہ داری کو ادا کرنا ہوگا اور وہ ذمہ داری خدا تعالٰی نے رویا میں مجھے دکھائی اور وہ آج میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔پہلے جب مباہلہ کا مضمون میرے دماغ میں ڈالا گیا تو آج سے چار خطبے پہلے میں نے اسکا آغاز کیا اور تمہید باندھی اور بتایا کہ مباہلہ کیا ہوتا ہے تو اسکے دو تین دن کے بعد ہی بجائے اسکے کہ مجھے مباہلہ کے متعلق کوئی خواب آتی ایک ایسی رؤیا دکھائی جو غیر معمولی قوت کی حامل تھی لیکن اس وقت مجھے سمجھ نہ آئی۔صبح جب غور کیا تو پھر سمجھ آئی کہ اس کا تعلق دراصل مباہلہ سے ہی ہے۔رویا میں میں نے دیکھا کہ میں ایک خطبہ دے رہا ہوں اور مخاطب کون ہیں، کہاں ہیں، کتنے ہیں، یہ پیش نظر نہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کل عالم کی جماعت کو میں خطبہ میں مخاطب کر رہا ہوں اور وہ جماعت سامنے بیٹھی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی اور اتنا جوش ہے اس خطبہ میں ،اس طرح قوت کے ساتھ وہ خود بخود جاری ہے جیسے بھر پور در یا بلندی سے بہاؤ کی طرف قوت کے ساتھ بہتا ہے اس کے سارے الفاظ تو یاد نہیں لیکن اسکی شوکت سے میرا بعض دفعہ جسم کا ذرہ ذرہ کا پنپنے لگتا تھا اور مضمون صرف یہ تھا کہ عبادت کرو اور عبادت کے حق قائم کرو اور نمازیں پڑھو اور بعض جو اس کے حصے