خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 430
خطبات طاہر جلدے 430 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۸ء کر دیا جس پر وہ یکدم نا امید ہو گئے۔پس جنہوں نے ظلم کیا تھا ان کی جڑ کاٹ دی گئی اور ثابت ہوا کہ سب تعریفوں کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ان آیات کا انتخاب میں نے آج کے خطبہ جمعہ کیلئے اس لئے کیا ہے کہ انکا ان گزشتہ خطبات سے تعلق ہے جو میں مباہلہ کے ضمن میں دیتا رہا ہوں۔مباہلہ اگر الہی جماعت کی طرف سے ہو یا نہ ہو انبیاء کے متعلق ان سب وجودوں کے متعلق جنہیں خدا خود بھیجتا ہے اسکی ایک ایسی جاری تقدیر ہے جسے کبھی کوئی دنیا میں تبدیل نہیں کر سکتا۔نہ پہلے کر سکا ہے نہ آئندہ کر سکے گا۔اس لئے چاہے کوئی اس مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرے یا نہ کرے وہ غیر مبدل تقدیر الہی جس کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے اس کو میں نے قرآن کریم کے الفاظ ہی میں آج آپ کے سامنے کھول کر رکھا ہے اور اس پہلو سے میرے مخاطب صرف احمدی ہی نہیں بلکہ وہ تمام دنیا کے مسلمان ہیں جو خصوصاً مباہلہ کے چیلنج کے بعد جماعت احمدیہ کے معاملات میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔کچھ جستجو اور تعجب کے نتیجہ میں ، کچھ اپنی مخالفانہ کاروائیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے متذبذب ہو کر کہ کیا واقعی ہمیں یہ چیلنج قبول کر لینا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے۔غرضیکہ مختلف وجوہات کی بناء پر کچھ اس لئے بھی کہ احمد یوں نے جب سے یہ چیلنج سنا ہے مدتوں کے دکھڑے ہوئے دلوں کو اپنے دلوں کے غبار نکالنے کا موقع مل گیا ہے اور وہ جگہ جگہ ان سب کو جو ان سے تمسخر کیا کرتے تھے اور استہزا کا نشانہ بناتے تھے۔ان سب کو مل مل کر اسکے گھروں تک پہنچ کر وہ چیلنج پیش کر رہے ہیں اور تمام دنیا سے اس قسم کے خطوط مجھے مل رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں بھی ایک غیر معمولی بیداری پیدا ہوئی ہے اور وہ کامل یقین کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ اب فیصلے کا دن آنے والا ہے۔پس اس پہلو سے جو سوئے ہوئے تھے جو لاتعلق تھے انکو بھی جھنجوڑ کر بیدار کیا جارہا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جماعت احمدیہ کی بقا کا مسئلہ جماعت احمدیہ کی آخری فتح کا مسئلہ اس مباہلہ پر منحصر نہیں۔اس کا تعلق خدا تعالیٰ کی ایک ایسی جاری تقدیر سے ہے جو ازل سے جاری ہے ابد تک جاری رہے گی وہ پہلا انسان جسے خدا نے اپنی طرف سے نمائندہ بنا کر بھیجا تھا اسکے حق میں یہ تقدیر جاری فرمائی اور پھر ہمیشہ یہ تقدیر ہر اس انسان کے حق میں جاری ہوتی رہی جس کو خدا تعالیٰ نے