خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 424

خطبات طاہر جلدے 424 خطبه جمعه ۱۰ رجون ۱۹۸۸ء الله۔ صلى الله سرنو اس اعلان کے ذریعہ سب الزامات کی توثیق کرتے ہیں اور ان کا اعادہ کرتے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ جماعت کلمہ توحید کی قائل نہیں بلکہ مرزا غلام احمد کو خدا یا خدا کا شریک یقین کرتی ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں اور اس دعوی میں سچے ہیں کہ یہ جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا غلام نہیں بلکہ ان سے افضل سمجھتی ہے اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ جماعت محمد رسول اللہ ﷺ کی ادنی غلام اور عاشق نہیں بلکہ آپ کی مخالف اور معاند ہے اور عزت کرنے والی نہیں بلکہ ہتک کرنے والی جماعت ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ جماعت جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں تو ہر گز محمد رسول اللہ کا کلمہ نہیں پڑھتی بلکہ اپنے دل میں مرزاغلام احمد قادیانی مراد لیتی ہے اور اسی کی رسالت اور صداقت کی شہادت دیتی ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ جماعت اسلام کی دشمن اور قوم اور وطن کی غدار ہے اور بنی نوع انسان سے عداوت رکھنے والی ہے اور امن عالم کو تباہ کرنے والی ہے اور مفسد اور شریر جماعت ہے جو نصاری کی بھی ایجنٹ ہے اور یہود کی بھی ہے اور ہنود کی بھی ۔ ہمیشہ اسلام دشمن اور وطن دشمن سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہے۔ پاکستان میں جتنے بڑے بڑے فساد اور دھماکے ہوئے ہیں ان سب کی یا ان میں سے اکثر کی دین صلى الله ذمہ داری اس جماعت پر عائد ہوتی ہے اور اس کا دین وہ دین اسلام نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کا تھا۔ اس کی کتاب وہ قرآن کریم نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس کی شریعت وہ شریعت نہیں جو شریعت اسلامیہ ہے۔ اس کی عبادت وہ عبادت نہیں جس کی تعلیم قرآن اور سنت نے دی۔ اس کا ملائکہ کتب اور رسولوں اور یوم آخرت کا تصور اس سے بالکل جدا ہے جو قرآن اور محمد رسول اللہ اللہ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ جماعت بنی نوع انسان کو اور خصوصیت سے امت مسلمہ کو دھوکا ﷺ اور فریب دینے والی جماعت ہے اور اس جماعت کو مسلمان کہلانے کے حق سے محروم کرنا ، مرتد اور واجب القتل قرار دینا، اس کو اسلامی طرز پر عبادت کرنے سے روکنا۔ اس جماعت کو حج بیت اللہ سے منع کرنا، اس جماعت کی عبادت گاہوں کو مسجد قرار دینا خلاف تعلیم اسلام سمجھنا اور ان کی عبادت گاہوں کو جو مسجدوں کی طرز پر بنائی گئی ہیں مہندم اور مسمار کر دینا اور ان کے خون کو مباح قرار دینا اور انکی جائیدادوں کو لوٹنے اور ان کے گھروں کو جلانے کی تعلیم دینا اور انہیں دین اسلام اور وطن کا ناسور قرار دینا اور اسے اکھاڑ پھینک دینے اور ملیا میٹ کر دینے کی تلقین کرنا عین دین اسلام کے تقاضوں