خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 419

خطبات طاہر جلدے 419 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۸ء کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے اس کو دیکھ کر کہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ راولپنڈی کا واقعہ پیش آنے سے پہلے یا سانحہ پیش آنے سے پہلے دو روز قبل قادیانی پنڈی سے جاچکے تھے یعنی ان سب کا پتا تھا وہ سارے پنڈی چھوڑ چکے تھے کہیں وہ بھی اس مصیبت میں گرفتار نہ ہوں۔جہاں تک جماعت احمدیہ کی طرف سے وہاں خبریں مل رہی ہیں۔تمام احمدی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اپنے اپنے گھروں میں قائم رہے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اس لحاظ سے کہ اپنے گھر چھوڑ کر کسی اور جگہ نہیں گئے لیکن خطرے کی شدت کے وقت وہ گھروں سے نکلے ہیں بھاگنے کے لئے نہیں بلکہ بچانے کے لئے۔آفت سے گریز کے لئے نہیں بلکہ آفت کی طرف آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قدم بڑھاتے ہوئے کہ آفت زدہ لوگوں کو اس آفت سے بچاسکیں اور جگہ جگہ انہوں نے جو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو کچھ دیکھا اور اپنے کانوں سے جو کچھ سنا ان کے متعلق وہ با قاعدہ مجھے اطلاع بھیج رہے ہیں اور یہ عجیب داستان اکٹھی ہو رہی ہے جو خدا تعالیٰ کے نشانات ایک نشان ہے۔ایسے ایسے حیرت انگیز واقعات ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہاتھ رکھ کر احمدیوں کو بچایا جبکہ اور کسی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔راکٹ بظاہر اندھے ہیں لیکن احمدی کی پہچان میں اندھے نہیں تھے اور وہ فرق کر کے دکھاتے تھے۔یہ جو واقعہ رونما ہوا ہے اس سے گھبرا کر مولوی نے جھوٹ بولا ہے اور افترا کیا ہے ان کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ جب قوم یہ دیکھے گی کہ راکٹوں کی اس اندھی بوچھاڑ میں احمدیوں کے گھر بچ گئے ان کی جانیں بچ گئیں ان کے بچوں کو ان کے بوڑھوں کو ان کے جوانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، ان کی عورتوں کی کوئی نقصان نہیں پہنچا اور خدا تعالیٰ نے ایک تمیز اور تفریق کر کے دکھائی ہے تو قوم یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے گی کہ آفت ہم مولوی کی اس بدبختی کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اعلان کیا تھا یعنی جس دن یہ راکٹ برسے ہیں یہ اعلان کیا تھا کہ اس دن ہم احمدیوں کی مسجد میں مسمار کریں گے اور ان کے پیشانیوں سے کلمہ طیبہ کو نوچ کر پھینک دیں گے۔یہ وہ جلوس تھے جو نکلنے والے تھے اور نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اس دن اور اوپر سے خدا تعالیٰ کی طرف سے پکڑ اچانک آگئی اور ان کی کوئی پیش نہیں گئی۔ساری ان کی سازشیں اس طرح دھری کی دھری رہ گئیں۔یہ بات چونکہ قوم کو معلوم ہونی تھی ، قوم نے دیکھ لینا تھا اور واقعہ یہ ہے کہ وہاں سے خط لکھنے والے سارے ذکر کر رہے ہیں کہ بعض جگہ دکانوں سے جن پر راکٹ گرے ہیں اور جن میں سے خدا کے فضل سے بعض آدمی بچ گئے اور گھبرا کر باہر نکلے