خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 418

خطبات طاہر جلدے 418 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۸ء اختیار نہیں کچھ پیش نہیں جاتی کچھ نہیں کر سکتا۔پاکستان میں آپ جہاں جائیں انہی باتوں کا تذکرہ ہے وہ اپنے لیڈروں سے بیزار ہیں، اپنے علماء سے بیزار ہیں۔اپنے سربراہوں پر زبان حال سے لعنت ڈالتے ہیں اگر زبان سے لعنت ڈالنے کی جرات نہیں اور بتا رہے ہیں دنیا کو کہ ہم اپنی زندگی کے بظاہر آخری دموں تک پہنچے ہوئے ہیں۔انسانیت شرافت، تقویٰ، صداقت، اعلیٰ اخلاق، انسانی ہمدردی، امانت دیانت کی ساری قدریں مجروح ہیں اور مجروح ہوتی چلی جارہی ہیں ان سب باتوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بارہا اس کی تعذیب کے نمونے بھی ظاہر ہورہے ہیں۔چنانچہ اوجڑی کیمپ میں جو نہایت درد ناک بلاٹوٹی اور خطرناک آسمانی عذاب کی صورت میں خدا تعالیٰ کی تقدیر بڑی بھیا نک طور پر ظاہر ہوئی ہے۔اُس پر بھی ان علماء کو ہوش نہیں آرہی اور استغفار کی طرف توجہ مائل نہیں ہو رہی۔اُن غریبوں اور مظلوموں کی حالت کا اندازہ کریں جن کو قوم کے بڑوں نے خود پاگل بنا کر آگ کی طرف دھکیلا ہو اور جب وہ مصیبتوں میں گرفتار ہوئے ہوں اور خدا کے عذاب کے نیچے آئیں تو پھر ان کا ساتھ چھوڑ دیں۔جس دن اوجڑی کیمپ میں یہ قیامت ٹوٹ رہی تھی ایک طرف احمدی تھے کہ ان کی سچی ہمدردی میں سرشار قطع نظر اس کے کہ ان کو کیا خطرات لاحق ہیں اپنے گھروں سے نکل کر وہ مصیبت زدگان کو مصیبتوں سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے اور ان حالات پہ استغفار کر رہے تھے اور خدا سے بخشش طلب کر رہے تھے اور دوسری طرف مولوی احتجاجی جلوس نکال رہے تھے اور ان مظلوموں کی کوئی بھی ان کو پرواہ نہیں تھی۔یہاں تک کہ آخر پولیس مجبور ہو گئی اور ڈنڈے مار کے اور گالیاں دے کر اور سختی کر کے اس جلوس کو تو ڑا اور انہیں واپس جانے پر مجبور کیا اور ان کو بے حیا کہا اور ان کو یہ کہا کہ تمہیں خدا کا آج بھی خوف نہیں۔دیکھتے نہیں کہ کس قسم کا عذاب نازل ہو رہا ہے اور کس طرح بنی نوع انسان دکھ میں مبتلا ہیں اور تمہیں اپنے مطالبوں کی پڑی ہوئی ہے۔چنانچہ وہ دن ایسا تھا کہ صدر ضیاء الحق صاحب کی موجودگی میں پاکستان کی پولیس نے مولویوں کا مقابلہ کیا ہے اور ان کی شرارت کے سامنے دبنے سے صاف انکار کر دیا اور ان کو خدا کا خوف دلانے کی پولیس نے کوشش کی اور ان سب باتوں کے بعد ان کی سفا کی کا اور بے باکی کا یہ عالم ہے کہ اخباروں میں فوراً یہ اعلان دینے شروع کر دیئے کہ راولپنڈی کا سانحہ قادیانیوں کی منظم سازش کا نتیجہ ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت انہوں نے اپنی طرف سے یہ پیش کیا اور ایسا جھوٹ اور ایسا بے بنیا داخترا