خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 412

خطبات طاہر جلدے 412 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۸ء اس قسم کی اور بھی کئی نصیحتیں میں نے امت مسلمہ کو بالعموم اور پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو خصوصیت کے ساتھ کیں۔مگر جیسا کہ بعد میں ظاہر ہونے والے اور مسلسل رونما ہوتے رہنے والے حالات نے ظاہر کر دیا ہے ان نصیحتوں کا کوئی اثر اس قوم نے قبول نہیں کیا اور خصوصیت کے ساتھ اگر یہ کہا جائے کہ قوم کے سربراہوں نے یا انہوں نے جنہوں نے قوم کی طاقت کے چشموں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور تکفیر کے ائمہ نے ان نصیحتوں کا کوئی اثر قبول نہیں کیا تو یہ بات زیادہ درست ہوگی اس تمام عرصہ میں جماعت احمدیہ کی تکذیب اور تکفیر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکفیر اور تکذیب اور آپ کی تذلیل کی کوشش میں یا آپ کی تخفیف میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ ایک بہت لمبی فہرست ہے اُس میں سے چند نمونے میں نے پچھلے خطبہ میں پیش کئے تھے۔اب میں آپ کے سامنے ہر روز پاکستان کے اخباروں میں شائع ہونے والے علماء کے اعلانات وغیرہ میں سے چند اقتباسات پیش کرتا ہوں اور حکومت کے سربراہوں اور صاحب اقتدار لوگوں کی تقریروں اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ کئے جانے والے اعلانات سے چند ایک اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ کس قدر مسلسل ضد کے ساتھ یہ اپنے ظلم پر قائم اور مصر ہیں۔چند نمونے پیش کرنے کا وقت ہو گا فہرست تو بہت لمبی ہے کیونکہ اس کے آخر پر میں پھر مباہلہ کا با قاعدہ چیلنج دینا چاہتا ہوں۔وہ عبارت میں نے لکھ لی ہے وہ آپ کے سامنے پڑھ کر سناؤں گا۔یہ ظلم وافتراء ہے جو جماعت کے خلاف کیا جارہا ہے۔”قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں محمد رسول اللہ سے مراد غلام احمد قادیانی ہے۔کلمہ میں محمد رسول اللہ سے بعینہ مراد مرزا قادیانی ہے۔افریقہ کی عبادت گاہ میں کلمہ میں محمد رسول اللہ کی جگہ احمد رسول اللہ درج ہے جو قادیانی کلمہ ہے“۔یہ اور اس قسم کے بیانات کثرت کے ساتھ مختلف علماء نے مختلف وقتوں میں دیئے اور ابھی تک دیتے چلے جا رہے ہیں ان میں چند علماء کے نام یہ ہیں محمد سجاد خان جمعیت اشاعت التوحید والسنہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندگان حضوری باغ ملتان المعین ٹرسٹ کراچی ، مولانا عبد القادر آزاد، مولانا غلام رسول، مولانا بشیر احمد سیالوی، مولانا محمد طاہر، مولانا محمد عثمان بھا مبڑا، مولانا عبد العزیز صاحب ،صاحبزادہ امیر الحسنات، منظور چنیوٹی اور اس کے چیلے چانٹے۔