خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 410
خطبات طاہر جلدے 410 خطبه جمعه ۰ ارجون ۱۹۸۸ء زبان گونگی اور کمزور ہے اور ان کو جرات اور حوصلہ نہیں کہ اس کذب وافتراء اور تعدی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کر سکیں کجا یہ کہ سینہ سپر ہو کر اس کی راہ روک دیں۔یہ معاملہ اب اس قدرحد سے تجاوز کر چکا ہے اور اس طرح جماعت احمدیہ کے سینے چھلنی ہیں اور اس طرح ان کی روحیں اس کذب و افتراء کی تعفن سے بیزار ہیں اور متلا رہی ہیں اور اس طرح اپنی بے بسی پر وہ خدا کے حضور گریہ کناں ہیں اور کوئی دنیا کے لحاظ سے ان کی پیش نہیں جاتی ان کے دلوں کی آواز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مصرعہ کی مصداق ہے کہ حیلے سب جاتے رہے ایک حضرت تو آب ہے پس اب ظلم کی اس انتہا کے بعد باوجود اس کے کہ بار بار اس قوم کو ہر رنگ میں سمجھانے کی کوشش کی۔اب میں مجبور ہو گیا ہوں کہ مکفرین اور مکذبین اور ان کے سربراہوں اور ان کے ائمہ کو قرآن کریم کے الفاظ میں مباہلہ کا چیلنج دوں یا کہنا چاہئے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق حق و صداقت میں امتیاز پیدا کرنے کی خاطر مباہلہ کا چیلنج دوں۔جیسا کہ جماعت احمد یہ اس بات سے خوب واقف ہے کہ ہم ہرگز اپنے دشمنوں کی بدی بھی نہیں چاہتے اور ان کا دکھ بھی ہم جانتے ہیں کہ بالآخر ہمیں ہی تکلیف دیتا ہے۔اس لئے میں نے مختلف رنگ میں ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کی شرارتوں سے ان کو باز رکھنے کے لئے نصیحت سے کام لیا لیکن افسوس کہ یہ آواز بہرے کانوں پر پڑی اور فسق و فجور اور ظلم کی راہوں سے پیچھے ہٹنے کی بجائے ان میں سے اکثر وہ ہیں جنہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جرات اور بے باکی میں پہلے سے زیادہ بڑھ گئے۔میں نے گزشتہ وقتوں میں جو مختلف رنگ میں نصیحت کی کوشش کی وہ ایک لمبا مضمون ہے اور بہت سے خطبات پر پھیلا پڑا ہے۔میں جماعت کو یادہانی کے طور پر اور ان مخاطبین کو یاد دہانی کے طور پر اپنے گزشتہ خطبات میں سے ایک اقتباس پڑھ کر سناتا ہوں۔انسانی اقدار کو زندہ کرو، انسانی شرافت کو زندہ کرو، حق کو حق کہنا سیکھو باطل کو باطل کہنے کی جرات اختیار کرو اس کے بغیر یہ ملک بچتا دکھائی نہیں دیتا ایک ہی خطرہ ہے اس قوم کو ایک ہی خطرہ ہے اس ملک کو ، اس قوم اور ملک کو ملائیت سے خطرہ ہے اور یہ خطرہ حد اعتدال سے تجاوز کر چکا ہے یہ خطرہ نہایت