خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 409
خطبات طاہر جلدے 409 خطبه جمعه ۱۰رجون ۱۹۸۸ء ائمة التكفير والمكذ بین کو مباہلہ کا چیلنج (خطبه جمعه فرموده ۰ ارجون ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی: فَمَنْ حَاجَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَانْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ پھر فرمایا: ( آل عمران : ۶۲) گزشتہ دو خطبات میں میں یہ مضمون بیان کر رہا ہوں کہ گزشتہ چند سالوں میں جماعت احمدیہ کے معاندین اور مخالفین اور مکذبین نے خصوصاً علماء کے اُس گروہ نے جو ائمۃ التکفیر کہلانے کے مستحق ہیں ظلم اور افتراء اور تکذیب اور استہزا اور تخفیف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تذلیل کرنے کی کوشش میں تمام حدیں توڑ دیں ہیں اور انسانی تصور میں جتنی بھی حدیں ممکن ہیں شرافت اور نجابت کی اُن سب سے تجاوز کر گئے ہیں اور مسلسل پاکستان میں ہر روز کوئی نہ کوئی جھوٹ اور افتراء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت پر گھڑا جاتا ہے اور علی الاعلان کھلے بندوں اُس کذب اور افترا کا کثرت کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے اور تشہیر کی جاتی ہے کوئی ان کو روکنے والا بظاہر نہیں۔ان شریروں کی مدد پر حکومت بھی کھڑی ہے اور دوسرے صاحب استطاعت اور صاحب اقتدار لوگ بھی ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔عوام الناس کی اکثریت شریف ہے مگر شرافت کی