خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 400
خطبات طاہر جلدے 400 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء پڑے۔اس لئے میں پوری احتیاط کے ساتھ اُن چند آدمیوں کو چننا چاہتا ہوں جو پوری بصیرت اور بصارت کے ساتھ کھلے کھلے لفظوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر لگائے جانے والے ان تمام الزامات کی تائید کے لئے اپنی جان کی بازی لگانے کے لئے تیار ہیں اتنا واضح ہیں اپنی تکذیب میں صرف اُن کو مخاطب کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور جماعت احمد یہ عالمگیر کے اس چیلنج کو قبول کریں کہ ہم ایسے سب افراد پر جو اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو میں نے بیان کیا ہے خدا کی لعنت ڈالتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو اور جو جو باتیں تم نے بیان کی ہیں جن میں سے چند نمونے میں نے پڑھے ہیں یہ باتیں جو میں نے پڑھ کر سنائی ہیں قطعاً کذب اور افتراء ہے اس میں کوئی بھی صداقت نہیں۔اس لئے تم اگر جرات رکھتے ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ طریق کے مطابق جو قرآنی مباہلہ کے چیلنج کی تفسیر ہے کھلم کھلا اعلان کرو تا کہ کوئی اشتباہ کی بات نہ رہے جس طرح جماعت احمدیہ کے سربراہ کی طرف سے جو اعلان کیا جاتا ہے وہ ساری دنیا میں مشتہر ہوتا ہے مختلف زبانوں میں اُس کے ترجمے ہوتے ہیں، مختلف رسائل میں چھپتا ہے۔تم بھی مخفی بیٹھ کر اس چیلنج کو قبول نہ کرو بلکہ کھلے بندوں اخبارات میں شائع کرور یڈیو اور ٹیلی ویژن پر ظاہر ہو اور قوم کو بتاؤ کہ ہم پورے شعور کے ساتھ ، پوری بصیرت کے ساتھ اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں۔ہم دوبارہ اقرار کرتے ہیں کہ جو باتیں ہم نے بیان کیں یا بیان کی گئی ہیں یہ ساری بچی ہیں اور جماعت احمد یہ اور جماعت احمدیہ کے بانی جھوٹے ہیں۔اس وضاحت کے ساتھ اگر تم مباہلہ کے لئے تیار ہو تو میں جماعت احمدیہ کی سربراہی میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔تم بھی اپنے چیلے چانٹوں کو اکٹھا کر واپنے بڑوں اور چھوٹوں کو بلاؤ۔اپنی عورتوں اور بچوں کو بلاؤ اور یہ اعلان جماعت احمدیہ کے مد مقابل کرنے کی جرات کرو۔ایک وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی تبصرہ کیا ہے تفصیلی نہ اس کی حیثیت عدالت کی ہے کیونکہ عدل و انصاف کو دور کا تعلق بھی اس عدالت سے نہیں تھا ، نہ اس کی شرعی حیثیت ہے کوئی کیونکہ اسلام میں اس نوع کی شرعی عدالت کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور شریعت اسلامیہ کی اس عدالت سے جو حرکتیں سرزد ہوئی ہیں اُن کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ عدلیہ کہلانے کے با وجود ایک عام مہذب انسان کی زبان سے بھی عاری ہیں اور نا آشنا ہیں۔چیف جسٹس آفتاب حسین