خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 398
خطبات طاہر جلدے 398 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء باعث نجات نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی پیروی سے نجات ہوگی۔میں تمام جماعت احمد یہ عالمگیر کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ لعنت اللہ علی الکذبین۔اس مکذب اور مفتری اور سراسر جھوٹے اور دروغ گوانسان پر خدا کی لعنت ہوا اگر یہ جھوٹا ہے تو ورنہ تمام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متبعین پر اگر ہم جھوٹے ہیں خدا کی لعنت ہو۔مولا نا عبد اللہ سندھی کوئی عالم دین سکھر کے نام سے معروف ہیں وہ لکھتے ہیں انگریز نے جہاد کو منسوخ کرنے اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے غلام احمد قادیانی کو بطور نبی کھڑا کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جہاد منسوخ صرف نبی ہی کرسکتا ہے۔میں تمام جماعت احمد یہ عالمگیر کی طرف سے اس مولانا کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔اگر تم حق پر ہو اور جرات رکھتے ہو تو تم بھی جوابا یہ کہو کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔مولا نا عبد الحلیم صاحب ہیں کوئی وہ فرماتے ہیں مرزا قادیانی کی مدد عالمی صلیبی قوتیں کرتی تھیں۔میں پھر اپنے اس اعلان کو دہراتا ہوں کہ لعنت اللہعلی الکاذبین اور مخاطب کو کہتا ہوں کہ تم میں حیاء اور جرات ہے تو تم بھی جو ابا اس دعویٰ کو پیش کر کے کھلے لفظوں میں کہو کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ایک پروفیسر صاحب کہلاتے ہیں ساجد میر صاحب وہ لکھتے ہیں قادیانی انگریز کے خود کاشتہ پودے اور ملت اسلامیہ کے دشمن ہیں۔میں پھر اس اعلان کا اعادہ کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ ساری جماعت عالمگیر اس آواز میں میرے ساتھ شامل ہے اور میرے پیچھے ہے اور کامل ایمان اور یقین رکھتی ہے کہ یہ الزام لگانے والا جھوٹا اور مفتری ہے اس لئے ہم یہ اعلان کرتے ہیں لعنت اللہ علی الکاذبین۔اگر تم سچے ہو اور تمہارے بھی کچھ مانے والے ہیں جو تمہاری تائید میں جرات کے ساتھ یہ اعلان کر سکتے ہیں تو سب لوگ اپنے بڑوں اور چھوٹوں کو ملا کر یہ اعلان کرو کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔حکومت پاکستان نے جو چیتھڑا شائع کیا تھا ” قادیانیت اسلام کے لئے سنگین خطرہ اس کے اندر بہت سی بے ہودہ سرائیاں کی گئیں۔زیادہ تر اُس کا تعلق بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے تھا اس لئے اس طرح مباہلہ کا چیلنج دینا آسان نہیں ہے کہ جیسے ایک ایسے مفتری کو چیلنج دیا جاتا ہے جو بالکل ایک نئی بات اپنی طرف سے بناتا ہے مگر اُس کتا بچہ پر یا اُس رسالہ پر قرآن کریم کی یہ آیت صادق آتی ہے يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ (النساء: ۴۷) کہ وہ کلام کو اس طرح توڑ مروڑ