خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 387 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 387

خطبات طاہر جلدے 387 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء پھر فرمایا:۔ ائمة التکفیر کو مباحلے کا چیلنج ( خطبه جمعه فرموده ۳ رجون ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت تلاوت کی ۔ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَابْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ( آل عمران : ۶۲) گزشتہ رمضان مبارک میں آخری آیام میں قرآن کریم کے جس حصے کا درس دینے کا موقع ملا اسی دوران اس آیت پر بھی درس کی توفیق ملی جس کی ابھی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔ اس آیت کا تعلق مباہلہ سے ہے اور مباہلہ سے متعلق اسلامی تعلیم کے اصول اور ان اصولوں کی روشنی میں طریقہ کا راسی آیت میں بیان فرما دیا گیا ہے۔ درس چونکہ بہت طویل تھا اور دو یا تین مجالس پر پھیلا ہوا تھا اس لئے اس سارے درس کو دوبارہ یہاں دہرانا تو مقصود نہیں لیکن اسی درس کے دوران میری توجہ اس طرف پھیری گئی کہ چونکہ یہ احمدیت کی پہلی صدی کے آخری ایام ہیں اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی جو سو سال سے تکذیب کی جارہی ہے اور پہلی صدی کے اختتام پر مکند بین کا شور و غوغا بہت بلند ہو گیا ہے اس لئے اس وقت اس تکذیب کا جواب مباہلہ کے چیلنج ہی کے ذریعے دینا مناسب ہوگا۔ اس پہلو سے میں نے کچھ امور کے متعلق درس کے دوران روشنی ڈالی لیکن