خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 386
خطبات طاہر جلدے 386 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء مسلمان قوم تھی۔حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے باوجودا کثریت کی مخالفت کے یہ اعلان کیا تھا کہ میں بتا دیتا ہوں احمدیوں کو کہ اس قوم سے مایوس نہ ہوں۔اس میں بہت شرافت ہے، ان کی اکثریت شرافت رکھتی ہے۔آپ نے جو جائزہ لیا وہ یہ تھا کہ میرے نزدیک ہر ۱۰۰ پاکستانی مسلمان میں سے ۹۹ شریف النفس ہیں اور ایک کی وجہ سے پاکستان بدنام ہو رہا ہے۔اس لیے ساری قوم کو مردود نہ کہو۔اس قوم کو اس قوم کے ڈکٹیٹر نے جوڈکٹیٹر بن کر قوم کی چھاتی پر کھڑا ہو گیا اُس نے پکڑا اور دعوی یہ کیا کہ میں اس کو بہتر مسلمان بناؤں گا، بہتر انسان بناؤں گا، بہتر پاکستانی بناؤں گا اور یہ کیا اور اُس کا اقرار یہ ہے کہ افسوس ہے کہ اس عرصے میں ہم مسلمان ہیں نہ پاکستانی ہیں نہ انسان رہے ہیں۔یہ اقرار پڑھتے ہوئے مجھے غالب کا وہ شعر یاد آ گیا جسے پڑھ کے میں نے سوچا کہ کتنے اچھے اچھے انسان تھے جو خاک میں دفن ہو گئے اور خاک نے اُن کو خاک بنا دیا، بڑے بڑے حسین چہرے تھے ، بڑے بڑے اعلیٰ دماغ تھے ، بڑے بڑے وجیہ انسان تھے، پر شوکت انسان تھے ، بڑے بڑے عظیم الشان را ہنما تھے کہاں چلے گئے۔تو اس کا درد محسوس کر کے اُس نے ایک بات کہی ہے۔اگر یہ درد کے لائق بات ہے تو اس سے بہت زیادہ درد کے لائق یہ بات ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کی قوم کو ہاتھ میں لے کر اس کو یہ کچھ بنادیا جائے کہ اقرار کیا جا رہا ہے کہ ہم نے بنا دیا ہے۔اُس پر مجھے وہ شعر یا د آیا یہ شعر ہی ہے جو ان کے حالات پر صادق آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ: مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لٹیم !۔تو نے وہ گنج ہائے گراں مایا کیا کئے (دیوان غالب صفحہ: ۲۳۵) کس قوم کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ہے اور کیا بنا کر رکھ دیا ہے۔اس مضمون کے بقیہ حصے کو میں انشاء اللہ اگلے خطبے میں جاری رکھوں گا اور اس کے نتیجے میں ایک بہت اہم اعلان ہے جو میں آخر پہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وقت زیادہ ہو چکا ہے اس لیے انشاء اللہ اس خطبے کا بقیہ حصہ اگلے جمعہ میں پیش کیا جائے گا۔