خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 381

خطبات طاہر جلدے 381 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء جس میں نہایا جا رہا تھا ابھی وہ دھوپ باقی تھی ، ابھی اس شہرت کا سورج ڈوبا نہیں تھا پوری طرح۔اصغرخاں صاحب نے گردو پیش نگاہ کی تو وہ کہتے ہیں کہ کسی شعبے میں نفاذ اسلام کے اثرات دکھائی نہیں دے رہے، کوئی بھی کاروائی حکومت کی ایسی نہیں جس سے ہمیں محسوس ہو کہ ہاں اسلام نافذ ہو رہا ہے۔(جسارت کراچی ۶ جولائی ۱۹۸۵ء) پھر اب میں متفرق تفصیل آپ کے سامنے مختصر آرکھتا ہوں یعنی چند ایک میں نے چنے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ نفاذ اسلام کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ان کوششوں میں ایک یہ بھی تھی کہ مسلمانوں کو نماز پڑھائی جائے یعنی ہیں تو مسلمان وہ لیکن احمدی نماز پڑھتے ہیں مسلمان نماز نہیں پڑھتے۔یہ کیا ظلم ہے اس لیے زبردستی پڑھائی جائے ، مار مار کر پڑھائی جائے اور اس کے لیے چھٹیاں بھی دی گئیں یعنی چھٹیاں تو نہیں یہ کہنا چاہئے زائد وقت Lunch Hour کے ساتھ یعنی دو پہر کے کھانے کے ساتھ جو گھنٹہ رخصت کا ملتا ہے اُس کے ساتھ آدھا گھنٹہ بڑھا دیا گیا کہ اب کوئی عذر نہ رہے کسی کے لیے نماز پڑھنے میں۔پھر اس نظام کو ایسا نافذ کیا گیا کہ با قاعدہ ناظمین صلوۃ مقرر ہوئے اور جہاں کوئی مسلمان نماز پڑھنے والا ناظم صلوٰۃ نہیں ملتا تھا ان کی اصطلاح میں وہاں احمدی کو اپنے دعوی کے باوجود کہ یہ مسلمان نہیں ہے ناظم صلوۃ مقرر کیا گیا اور اُس نے جب احتجاج کیا کہ بھئی تم تو کہتے ہو کہ میں مسلمان ہی نہیں اور تم مجھے ناظم صلوۃ بنا رہے ہو۔تو جواب یہ ملا کہ یہاں نماز تمہارے سوا پڑھتا ہی کوئی نہیں تو اب اور کس کو بنائیں لیکن سارے ناظمین صلوۃ بھی نماز پڑھنے والے نہیں تھے اور انہوں نے اس کی ایک بڑی زبردست کا نفرنس منعقد کی جس میں مختلف ناظمین صلوۃ کو بلایا گیا اور اُس ڈومیلی ضلع جہلم کے مقام پر اُس علاقے کے ناظمین صلوۃ کی کانفرنس تھی اور اُس میں باری باری مختلف ناظمین کو موقع ملا کہ وہ نماز کی تنفیذ کے معاملے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔روزنامہ ملت لندن ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء میں یہ خبر شائع ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مرزا علی اختر ناظم صلوۃ نے ناظمین صلوۃ و میلی ضلع جہلم کے اجلاس میں اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا : مقامی سطح سے لے کر صوبائی اور وفاقی سطح تک جتنے بھی امیدوار انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں اُن میں سے اکثریت اُن لوگوں کی ہے جو نظام صلوٰۃ سے بے خبر ہیں اور نماز نہیں پڑھتے۔یعنی یہ مسلمان قوم کے منتخب عہدہ داران کا حال ہے اور یہ اتنی لمبی کوششوں کے بعد ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء کا واقعہ