خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 372 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 372

خطبات طاہر جلدے 372 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء میں لیکن حضرت محمد مصطفی امیہ کی نعت پڑھنا دل آزاری کی تعریف میں آجاتا ہے ، خدا کی حمد بیان کرنا دل آزاری کی تعریف میں آجاتا ہے، کسی کو السلام علیکم کہنا دل آزاری کی تعریف میں آجاتا ہے۔مساجد سے جو اذانیں بند کی گئیں وہ دل آزاری نہیں لیکن مساجد کو مغلظات بکنے کے لیے استعمال کرنے کی جو آزادی دی گئی ہے وہ انسانی بنیادی آزادی کے حقوق کے اندر داخل ہے اور اُس سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی۔ہر چیز اُلٹ گئی ہے، ہر مضمون کا رنگ بدل گیا ہے اور کوئی بھی ایسا دستور نہیں رہا جسے عقل و دانش کا دستور ، عام انسانی قدروں کا دستور کہا جاسکتا ہے لیکن اس پر بس نہیں کی گئی مسلسل حکومت کی طرف سے، حکومت کے کارندوں کو یاد دہانی کروائی جاتی رہی کہ ابھی تم احمد یوں پر ظلم کم کر رہے ہو ہم تمہیں یاد دلاتے ہیں کہ بہت سے ظلم باقی ہیں اور بعض اوقات بعض علماء کو با قاعدہ اسلام آباد بلوا کر یا راولپنڈی بلوا کر یہ ہدایت کی جاتی رہی کہ تم اخباروں میں یہ باتیں اُٹھاؤ کہ یہ ظلم ابھی نہیں ہور ہے یہ باتیں ابھی تک جاری نہیں ہوئیں احمدیوں کے خلاف اور اس کے جواب میں پھر ہم بیانات شائع کریں گے اور ساری قوم کی توجہ تمہاری اور ہماری طرف ہو گی کہ ہم ہی اصل میں اسلام کے نیچے خدمت کرنے والے ہیں۔وہ ساری اطلاعیں علماء کی طرف سے بھی ہمیں پہنچتی رہیں لیکن یہ ان کے اپنے نفسانی کھیل تھے اور ان کو بیان کرتے یا نہ کرتے اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا مگر بہر حال یہ کھیل بنائے ہوئے ڈراموں کی شکل میں جاری رہے اور یہ ڈرامے ہمیشہ اپنے پیچھے خونی اثرات احمدیوں پر چھوڑ گئے اور ہر ایسے ڈرامے کے بعد احمدیوں کی تکلیف میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہا۔یہ تو سارا سال کے ہر روز چھپنے والے اخبارات میں چھپنے والی باتیں ہیں۔اب چار سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے یہ اتنے دنوں کے قصے اب میں کیسے ایک چھوٹے سے خطبے میں بیان کر سکتا ہوں لیکن کسی دن کا کوئی اخبار آپ پاکستان کا اُٹھا کر دیکھ لیں وہاں آپ کو یہ باتیں مل جائیں گی۔چند نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔صدر مملکت نے مسلح افواج سے قادیانی غیر مسلم منکرین جہاد افسران کو نکالنے کا کیس Secertary Establishment Division کو ضروری کاروائی کے لیے بھیج دیا ہے۔آپ اندازہ کیجئے کہ یہ وہی فوج جس میں ابھی بھی لیفٹیننٹ جنرل بھی ہیں بعض احمدی کیونکہ وہ سرجن ہیں چوٹی کے اُن کے بغیر ان کا گزارہ نہیں چلتا، اُن کو رکھنا ان کے اپنے مفاد میں از بس