خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 362

خطبات طاہر جلدے 362 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء سے بھی کلیۂ آزاد کر دیا ہے بلکہ مذہبی معاملہ میں مخالفت کرنے والوں کے لیے ایسے موقع پر مدد کی تلقین فرمائی گئی ہے۔چنانچہ اسی لیے مجھے یاد ہے کہ حضرت مصلح موعود البعض دفعہ شدید معاندین کے متعلق بھی نظر رکھتے تھے کہ اُن کو اگر کوئی ضرورت ہے تو وہ ضرورت پوری کی جائے اور اس ضمن میں مولوی ظفر علی خان صاحب کو جب آخری ایام تھے مری میں تو ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو آپ نے تاکید فرمائی کے باقاعدہ اُن کی عیادت کے لیے جاؤ اُن کا علاج کرو اور اس ضمن میں اُن کے اوپر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑنا چاہئے اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ نعوذ باللہ کوئی اشتہار بازی کی جائے۔حضرت مصلح موعود خود اُن دنوں میں شدید بیمار تھے لیکن اپنے ذاتی ڈا کٹر کو کہا کہ تم اُن کی فکر کرو وہ محتاج ہیں کیونکہ آپ کو یہ اطلاع ملی تھی کہ اس حالت میں وہ بیچارے مفلوک الحالی کی حالت میں وقت گزار رہے ہیں کہ جس قوم نے اُن کو لیڈر بنایا ہوا تھا وہ اُن کو بھول چکی ہے۔کوئی بھی خدمت نہیں کر رہا، کوئی اُن کو پوچھ نہیں رہا، کوئی طبیب میسر نہیں ہے۔چنانچہ اسلامی تعلیم کی عظمت اس بات میں ہے کہ غریب کے حقوق اور ضرورت مند کے حقوق کو کلیۂ آزادی عطا کی گئی ہے، فَقُ رَقَبَةِ اس کو کہتے ہیں کہ مذہب سے بھی آزادی ہے کلیہ اور ان لوگوں کو یہ بھی حق دے دیا گیا ہے کہ تم بے شک ہماری مخالفت کرو لیکن خدا کہتا ہے کہ ہم نے تمہاری ضرورت کو بغیر غلامی کے پورا کرنا ہے۔اس لیے کوئی زنجیر تمہارے اوپر نہیں ہے تم نے جو کچھ کرنا ہے کرتے رہو۔ہمیں جو حکم ہے وہ یہی ہے کہ ہم تمہیں اب تمہاری مصیبتوں اور ضرورتوں سے بھی آزاد کروائیں۔یہ اعلیٰ درجے کی تعلیم ہے جس کو سمجھ کر جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم نے بفضلہ تعالیٰ اگلی صدی میں داخل ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔اب میں ایک مختصراً ایک اور بات یہ کہنی چاہتا ہوں کہ جب سے میں انگلستان آیا ہوں اُس وقت سے یہ رحجان دن بدن بڑھتا ہوا دیکھا ہے کہ جن کے کوئی عزیز فوت ہوں وہ مجھے نماز جنازہ غائب کے لیے کہتے ہیں۔ابتداء میں یہ رحجان بہت کم تھا اور چونکہ میں پاکستان سے بعض حالات کی مجبوری کی وجہ سے یہاں آ گیا اور پاکستانی احمدیوں کی دلداری کا خیال زیادہ تر پیش نظر تھا۔اس لیے اس خیال سے کہ اُن کو محرومی کا احساس نہ ہو کہ میں وہاں نہیں ہوں ورنہ شاید میں خود اُن مرحومین کا جنازہ پڑھتا، میں ایسی درخواستوں کو منظور کرتا رہا لیکن کچھ عرصہ کے بعد میں نے خطبے میں یہ تاکید کی