خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 355

خطبات طاہر جلدے 355 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء نعرے لگارہا تھا۔تو حضرت خلیلہ اسبح الاول اس وقت طاریہ اسی الا ول نہیں تھے حکیم نورالدین تھے انہوں نے پوچھا کہ بابا یہ کیا بات ہے آج تم کیوں اتنا خوش ہو، کیوں اتنا اچھل کو درہے ہو آخر تم نے کیا پالیا ہے۔تو اُس نے جواب دیا کہ حکیم صاحب جس کی ساری مرادیں پوری ہو جائیں وہ خوش نہ ہو۔کیا وہ خوشی کے ترانے نہ گائے۔حضرت حکیم نورالدین صاحب نے پوچھا کہ میں تو تمہیں آج بھی اُسی طرح ایک لنگوٹے میں دیکھ رہا ہوں تمہارے بدن پہ کچھ نہیں ہے، وہی اسی طرح کی حالت ہے جو پہلے تھی اور وہی بُرے غربت کے آثار ہیں۔آخر تم نے پا کیا لیا ہے،مراد میں تمہاری کون سی پوری ہوگئی ہیں۔اُس نے کہا حکیم جی تسی نہیں سمجھدے جیدی مراد ہی کوئی نہ ہور ہے اوردیاں پوریاں ای پوریاں کہ حکیم صاحب آپ نہیں یہ بات سمجھتے جس کی مراد ہی کوئی نہ رہے اُس کی ساری مراد یں پوری ہو جاتی ہیں۔تو قناعت بھی ایک آزادی کا رستہ ہے۔اس کا کوئی بھی تصور دنیا کے کسی اور نظام اور فلسفے میں نہیں ہے۔قرآن کریم اس کو پیش کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ اس پر روشنی ڈالتے ہیں اور اس کے مطابق تربیت فرماتے ہیں۔صلى الله پس اپنی ضرورتوں کو کم کرو اور کوشش کرو کہ جو کچھ تمہیں نصیب ہے اُسی کے اندر رہو۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا جو اقتصادی نظام ہیں دنیا کا وہ اس کے بالکل برعکس کام کرتا ہے۔اُس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے، اُس کی بقاء کا راز اس میں ہے کہ طلب کو بڑھاؤ۔جتنی آپ طلب بڑھاتے چلے جائیں گے۔اُتنا ہی ڈیمانڈ بڑھتی چلی جائے گی۔اُتنا ہی آرٹیفیشل اور مصنوعی زندگی کی تمنا بڑھتی چلی جائے گی۔چنانچہ افریقہ کے دورے پر جب میں نے یہ باتیں دیکھیں تو اُن کے سر براہوں سے بھی دوسرے دانشوروں سے بھی میں نے خاص طور پر یہ بات پیش کی۔میں نے کہا آپ کی نجات تو قرآن کریم کی اس تعلیم میں ہے کہ آپ اپنی طلب کم کریں۔آپ غریب ملک ہیں آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ اعلی ٹیلی ویژن کے عیاشی کے پروگرام دیکھیں، مرسیڈیز باہر سے منگوائیں اور اپنی سڑکوں پر اُن کو دوڑائیں۔آپ کی غریبانہ حالت آپ کو اس کی اجازت نہیں دیتی اور آپ اپنی طلب بھی آرٹیفیشلی یعنی مصنوعی طریق پر پوری نہیں کر رہے بلکہ اپنی غریب عوام کی طلب بڑھا رہے ہیں اور یہ زیادہ دیر تک اس طرح نہیں رہے گا سلسلہ۔افریقہ بڑا صبر کرنے والا خطہ ہے لیکن صبر کی بھی حدیں ہوتی