خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 348
خطبات طاہر جلدے 348 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء کے مطابق اگلی آیت کا ترجمہ کیا جائے گا۔چنانچہ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا (البلد : ۱۸) میں دونوں پہلو پیش نظر ہیں۔ابتدائی بھی یعنی ایمان کی ابتدائی منازل بھی اور ایمان کی بلند و بالا اور اعلیٰ منازل بھی لیکن اس سلسلے میں کچھ اور باتیں بھی ایسی تھیں جو میں سمجھتا ہوں کہ مضمون بہت اہم ہے جماعت کے سامنے اس خطبے میں رکھ دوں تا کہ یہ مضمون اسی تسلسل میں بیان ہو۔جب قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ آزادی، گردنوں کا آزاد کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے۔فرمایا یہ گردنوں کا آزاد کرنا بلندی پر چڑھنا یا مشکل راستے پر چڑھنے کے برابر ہے۔میں نے اُس کا غالبا یہ ترجمہ کیا تھا گھائی پر چڑھناوہ اس لیے کہ النَّجْدَینِ کا ذکر پہلے ہے دو بلندیاں، دو چوٹیاں،اُن کے درمیان جو سطح مرتفع ہوتی ہے۔وہ اُن کے مقابل پر نسبتا کم سطح پر ہے اور اُسے ہم گھائی کہتے ہیں لیکن جب ہم نیچے سے اوپر کی طرف سفر شروع کریں۔تو وہ گھائی بھی ایک بلندی ہے اور دو بلندیوں کے قریب تر کا درمیانی راستہ وہ گھائی کا رستہ کہلاتا ہے۔چنانچہ الْعَقَبَةَ اصل مطلب مشکل راستہ ہے، کٹھن والا رستہ ہے۔خواہ وہ سطح مرتفع کی طرف لے جاتا ہو یا عام زمین کی سطح پر بھی اگر مشکل سے چلا جائے تو اُس کو العقبة کہیں گے کیونکہ العقبة کا مضمون ایڑی سے نکلا ہے۔وہ چیز جو ایڑی بوجھ ڈالتی ہے وہ عقبہ والا رستہ ہے۔بہر حال اس کی تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں یہ مراد نہیں تھی۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس مضمون میں قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا کہ بلندی کا مشقت کا، بلندیوں کی طرف لے جانے والا راستہ وہ راستہ ہے جو گردنوں کو آزاد کرنے والا راستہ ہے اور گردنوں کو آزاد کرنے والا راستہ کیا ہے؟ غرباء کی خدمت مسکینوں کی خدمت، یتامی کی خدمت ، بے سہارا لوگوں کی خدمت۔اس سے ایک یہ تاثر بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ گویا قرآن کریم کے نزدیک آزادی کا مفہوم سوائے اس کے اور کچھ نہیں حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر یہی بلند ترین مقام ہے جس کی طرف قرآن کریم لے جانا چاہتا ہے تو پھر وہ لوگ جو مفلوک الحال لوگوں کی اقتصادی امداد کرتے ہیں یا غریب قوموں کی اقتصادی بہبود کے لیے کوشاں ہیں۔کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے کہ اگر وہ ایسا کریں تو وہ ایمان کے اعلیٰ مقامات کو حاصل کر لیتے ہیں۔کیا قرآن کریم بصورت دیگر اشتراکیت ہی کی تعلیم دیتا ہے یا کسی اور رنگ میں غرباء کی خدمت ہی دراصل انسانی معراج کے اعلیٰ مقامات قرار دیتا ہے۔یہ وہ پہلو ہے جو تشنہ رہ گیا تھا جو میں