خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 346
خطبات طاہر جلدے 346 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء نہیں۔مگر ہر شخص پر اس کا اطلاق ہونا چاہئے اور اس ضمن میں بقیہ جو ایام رہ گئے ہیں اپنے بچوں کی یہ تربیت کریں کہ اُن کو رمضان سے یہ سبق بھی سیکھنا چاہئے کہ خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ وہ خرچ کریں۔یہ جو عادت ہے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی بہت ہی ایک ایسی پاکیزہ عادت ہے جو ساری زندگی میں انسان کے اندر اس کی نیکیوں کی حفاظت کرتی چلی جاتی ہے اور انہیں بڑھاتی چلی جاتی ہے اور اس سے آگے پھر دوسری نیکیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔اس لیے اس موقع پر آپ بچوں سے پیسے دلوانے کی کوشش کریں جہاں تک ممکن ہے اپنی طرف سے صرف ادا نہ کریں بچوں کو دے کر اُن سے کہیں کہ غرباء کی ہمدردی میں دیا جا رہا ہے اس لیے تم دو اور سارا مسئلہ اُن کو سمجھائیں کیونکہ یہ ایسا ملک ہے جہاں براہ راست بچوں کو غریبوں کی خدمت کا موقع نہیں ملتا اور یہ جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ سارے ہی کم سے کم اس معیار پر ہیں کہ اُن کو تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔افریقہ اور دوسرے مشرقی ممالک جہاں بھوک ہے وہ دور ہیں براہ راست اُن تک پہنچ نہیں سکتے لیکن عید کے موقع پر ایک احساس پیدا ہوسکتا ہے کہ ہاں ہم پر فرض ہے ہم نے ضرور غرباء کی خاطر کچھ ادا کرنا ہے۔تو اس نکتہ نگاہ سے اپنے فطرانے پر نظر ثانی کریں اور جتنے گھر کے افراد ہیں نوکر ہوں تو تو کر بھی سب شامل ہیں اس میں بلکہ مہمان آیا ہوا ہو تو اُس کی طرف سے بھی فطرانہ دینا ضروری ہے۔اگر مہمان نہیں دیتا تو یہ میزبان کا فرض ہے اُس کی میزبانی میں یہ بات داخل ہے کہ اپنے مہمان کا بھی فطرانہ ادا کرے۔تو انگلستان میں تو یہ بات فوراً پہنچ جائے گی آپ اس پر عملدرآمد کر سکتے ہیں اور باقی مغربی ممالک میں بھی فون کے ذریعے آج ہی پیغام بھجوا دیں گے انشاء اللہ اور مشرقی ممالک میں عموماً نسبتاً معیار بلند ہے لیکن بہر حال جہاں تک یہ آواز پہنچ سکتی ہے بچوں کی رمضان مبارک میں اس پہلو سے بھی تربیت کیا کریں کہ اُن کے دل میں غریب کی ہمدردی پیدا ہو اور براہ راست قربانی کا جذبہ پیدا ہو اور اُس کا مزہ بھی اُٹھا لیں کچھ نہ کچھ اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اس رمضان مبارک کے حقوق ادا کر سکیں اور یہ آخری رمضان جو اس صدی کا ہے اپنے پیچھے ایسی برکتیں چھوڑ جائے جن کا کوئی آخر نہ ہو۔آغاز تو ہومگر وہ برکتیں جاری وساری ہوں کبھی ختم نہ ہونے والی ہوں اور اس رمضان کی برکتوں سے خصوصیت کے ساتھ ہم اس قابل ہوسکیں کہ اگلی صدی میں پہلے سے بہتر وجود کے طور پر داخل ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ وہ سارے کام جو ہمارے سپر داگلی صدی کی تیاری میں کیے گئے ہیں اُن کو ہم کما حقہ احسن رنگ میں سرانجام دیں سکیں۔آمین۔