خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 345

خطبات طاہر جلدے 345 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء دیئے جائیں۔بعد میں جب باہر سے اچھی گندم آنا شروع ہوئی تو حضرت عمر کے زمانے میں ایک صاع گندم کی بجائے آدھا صاع گندم مقرر ہوا کیونکہ اُس زمانے میں کھجور کی قیمت کے مقابل پر گندم کی قیمت زیادہ تھی اور آدھا صاع گندم ایک صاع کے برابر تھی۔پھر بعد میں فقہاء نے اس سلسلے میں اختلاف شروع کیے اور بعض اس طرف چلے گئے کہ نہیں گندم کے پوری ایک صاع ہی یعنی مسئلے کہ مطابق ایک صاع گندم پوری دینی چاہئے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے صاع کا پیمانہ مقرر فرمایا صلى الله تھا۔بعض یہ کہتے تھے کہ نہیں یہ تو حکمت سے کام لینا چاہئے۔آنحضور ﷺ نے ایک قیمت مقرر کی ہے اور قیمت کے لحاظ سے خلفیۃ اللہ حضرت عمرہ بہتر سمجھتے تھے منشاء نبوی کو اور آپ نے بالکل درست فرمایا کہ مراد تھی کہ یہ قیمت ہے انداز ا اس کے مطابق ادا کرو۔چنانچہ آدھا صاع گندم دینی چاہئے۔بعد میں ہمارے زمانے میں احمدی فقہاء علماء نے اپنی طرف سے ایک نسبتاً وسیع رستہ اختیار کیا اور کہا کہ ٹھیک ہے جو ایک صاع گندم کے برابر قیمت دے سکتا ہے وہ ایک صاع گندم کی قیمت دے دے، جو آدھے صاع کے برابر قیمت دے سکتا ہے وہ آدھے صاع کے برابر دے دے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اگر کھجوروں کے اوپر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں تو ایک صاع کھجور کے مقابل پر کئی صاع گندم کے بن جائیں گے اور اگر ایک دفعہ آپ نے اس اصول کو تسلیم کر لیا کہ قیمت مراد ہے تو پھر اس اصول کو جاری رکھنا چاہئے پھر اس اصول کو دو قدم پر جا کر کیوں کھڑا کر دیتے ہیں یعنی حضرت عمرؓ کے زمانے میں کیوں کھڑا کر دیتے ہیں۔جس اصول کے پیش نظر حضرت عمر نے پیمانے کو بدلہ ہے۔وہ اصول اگر سچا ہے تو ہمیشہ کام کرنا چاہئے۔اُس کو اس لیے اگر اُس وقت پیمانہ آدھا ہو گیا تھا تو پیمانہ دوگنا بھی تو ہو سکتا ہے ، چار گنا بھی تو ہو سکتا ہے۔اب انگلستان میں بھی آپ ایک صاع گندم کے حساب سے ہی فطرانہ مقرر کرتے ہیں اور وہی مسئلہ آج تک ہماری کتابوں میں چلا آرہا ہے کہ جس نے پورا صاع دینا ہے وہ پورا صاع دے دے جس نے آدھا صاع دینا ہے آدھا صاع دے دے حالانکہ کھجور ایسی چیز ہے جس کو ہم آج بھی پیمانے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں ، بنیادی ایک قدر کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔یہاں جہاں تک میرا تاثر ہے ایک صاع کھجور میں تو آٹھ دس صاع گندم کے آجا ئیں گے۔تو کھجور کی قیمت کیوں نہیں رکھ لیتے ،سیدھی بات ہے چھوڑیں گندم کے قصے کواب۔کھجور کی جو قیمت جس ملک میں جتنی بنتی ہے اُسی پیمانے سے کر دیں آپ یا کچھ زائد کر دیں تو کوئی حرج کی بات