خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 30
خطبات طاہر جلدے 30 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۸ء خدا نے پہلے سے ہی آنیوالے وسیلہ کی خبر دی تھی اور اس وسیلہ کے ساتھ اپنی محبت اور تعلق کا اظہار اپنے گیتوں میں بھی کرتے تھے اپنی عبادتوں میں بھی کرتے ہوں گے لیکن انہی کتب میں اس کا ذکر موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان گزشتہ انبیاء کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ علیہ وآلہ وآلہ وسلم وسلم ۔ کے ساتھ ایک روحانی تعلق قائم ہو چکا تھا۔ سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان کے شریک ٹھہرارہے ہو جو خدا کے ایک ایسے بندے کا قرب ڈھونڈ رہے ہیں جسے خدا نے وسیلہ بنایا ہوا ہے اور جو وسیلہ ہے وہ تو خدا کا شریک بن ہی نہیں سکتا کیونکہ وسیلہ کا مطلب ہے دوسرے کی طرف لیجانے والا ۔ کیسی جہالت ہے تمہاری کہ جوان کا مرغوب اور محبوب تھا جن کو تم نے خدا کا شریک بنا لیا وہ تو خود خدا کی راہ دکھانے والا ایک وجود ہے، خدا کی راہ میں ایک انتہائی عاجز بندہ ہے اور اس کے عجز میں ہی اس کی عظمتیں ہیں۔ وہ اپنے لیے کچھ نہیں چاہتا ، وہ خدا نما ہے تمہیں خدا کی طرف لے جانا چاہتا ہے اور اس سے جتنی بھی تمہیں محبت ہے اس وجہ سے ہے کہ وہ خدا نما ہے پس اس مضمون سے قرآن کریم کی ایک اور آیت پردہ اٹھاتی ہے اس وسیلہ کی خود تشریح فرماتی ہے کہ وہ وسیلہ کون ہے۔ چنانچہ وسیلہ کا لفظ یعنی س کے ساتھ وسیلہ کا لفظ قرآن کریم میں دو جگہ استعمال ہوا ہے ایک اس آیت میں جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے دوسرا ذ کر اس آیت میں موجود ہے جس کی میں نے جمعہ کے آغاز میں تلاوت کی تھی فرمایا یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ اے ایمان لانے والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈ و وَ جَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ خدا کی راہ میں بہت کوشش کرو تا کہ تم نجات پاؤ۔ یہاں وسیلہ سے مراد حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ وسیلہ سے عمومی معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں خدا کے قرب کی راہوں کو بھی وسیلہ کہا جا سکتا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن مجسم وسیلہ، صاحب شعور وسیلہ جیسا کہ پہلی آیت میں اس کی تشریح بیان فرمائی أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ میں وسیلہ کو ایک صاحب شعور وجود کے طور پر پیش کیا ہے اس لئے وہی معنی وسیلہ کا اس وسیلہ کے اوپر بھی اطلاق پانا مناسب ہے بلکہ اولی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ دو ہی جگہ وسیلے کا لفظ آیا ہے ایک اس آیت میں اور ایک یہاں۔ وہاں وسیلہ کو عام رستوں کے طور پر بیان نہیں فرمایا بلکہ خدا کے مقرب بندوں کے طور پر پیش کیا ہے جو مقرب ہونے