خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 344
خطبات طاہر جلدے 344 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء جیل والے ہیں اُن کو جب تک خوش نہ کریں آپ غریب تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔اس لیے ان اسیروں کی خدمت کے لیے آپ کو کچھ غیر اسیروں کی بھی ساتھ ساتھ خدمت کرنی پڑے گی۔لیکن اللہ برداشت کریں ان باتوں کو تکلیف تو بہت ہوتی ہے کہ ایک اللہ کا بندہ مصیبت میں مبتلا ہے۔خدا کی خاطر اُس کے دُکھ دور کرنے کے لیے جارہے ہیں اور راستے میں رشوت کے ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں کہ اس پہ کچھ ڈالو گے تو ہم تمہیں خدمت کرنے دیں گے لیکن خدا کی خاطر جہاں اور تکلیفیں برداشت کرتے ہیں وہاں یہ بھی سہی۔مگر کوشش بہر حال ہونی چاہئے کہ پاکستان میں جتنے بھی قیدی مظلومیت کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اُن سب تک تو آپ نہیں پہنچ سکتے لیکن کچھ تک ضرور پہنچیں اور محض اللہ پہنچیں اور اُن کی جیلوں کے اندر ان کی عید بنانے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان چیزوں کی توفیق عطا فرمائے۔یہ دو تین چیزیں خصوصیت کے ساتھ میں نے چھنی تھیں آج کی نصیحت کے لیے۔ایک بات تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ فطرانے کے متعلق عموماً با ہر غفلت برتی جاتی ہے اور رمضان کا تعلق عطا یعنی غریبوں اور مسکینوں وغیرہ کو خدا کی خاطر کچھ دینے سے بہت گہرا ہے۔چنانچہ آنحضرت محمد ہے سارے رمضان مبارک میں کثرت کے ساتھ غرباء پر خرچ کیا کرتے تھے۔روایتوں میں آتا ہے کہ یوں لگتا تھا کہ جیسے آندھی چل پڑی ہے (بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر :۱۷۶۹)اس طرح آپ خیرات عام کر دیا کرتے تھے اور خصوصیت سے مسلمانوں کی تربیت کی خاطر ایک چیز صدقۃ الفطر رکھی گئی جس کو ہم فطرانہ کے طور پر جانتے ہیں۔یہ ہمارے عرف عام میں آج کل اسے فطرانہ کہا جاتا ہے اس کا نام ہے صدقة الفطر۔چنانچہ آنحضرت می تاکید فرمایا کرتے تھے کہ عید سے پہلے صدقۃ الفطر ضرور دینا چاہئے اور یہ صدقۃ الفطر کو ٹال ٹیکس کی طرح کی چیز ہے بلکہ اُس سے بھی زیادہ وسیع۔ہر بچے پر بھی صدقۃ الفطر ہے اور آپ نے فرمایا کہ اگر عید کے دن بھی کوئی بچہ پیدا ہو تو اُس کا بھی صدقة الفطر ادا کرو (مسلم کتاب الزکاۃ حدیث نمبر: ۱۸۷۱)۔یہ بتانے کے لیے کہ مسلمانوں کی تکلیف میں سارے مسلمانوں کا شامل ہونا ضروری ہے اور اس میں غریب بھی شامل ہوتے ہیں امیر بھی شامل ہوتے ہیں۔صدقۃ الفطر کی تعریف مختلف رنگ میں کی گئی ہے یعنی کتنا ہونا چاہئے ، کیسا ہونا چاہیے شروع میں تو جو اُس زمانے کے لحاظ سے نصیحت فرمائی گئی وہ یہ تھی کہ ایک صاع ایک پیمانہ ہے اس کے برابر کھجوریں یا بو وغیرہ جو اُس وقت میسر تھیں وہ دے