خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 343
خطبات طاہر جلدے 343 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء الله ہیں۔پاکستان میں بہت تعداد ایسے قیدیوں کی ہے جو سخت مظلومی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔پس علی حبہ کا ایک نیا مضمون اس خدمت میں یہ پیدا کریں کہ اسیران راہ مولیٰ کی خاطر ان قیدیوں پر رحم کریں۔یہ بھی علی حبہ ہی ہے کہ خدا کی محبت کی خاطر جن قیدیوں کا دُکھ آپ کو ہے اُن کی خاطر اُس جیسے دُکھوں والوں کے دُکھ دور کرنے کی کوشش کریں۔وہ تو چند قیدی جو ہیں اس وقت اُن کے لیے جماعت بھی کوشش کرتی ہے، ہر طرف سے لوگوں کی نظر ہے لیکن بہت سے خدا کے بندے ایسے مظلوم ہیں پاکستان میں جن کو قید میں جھونک کر کھلا دیا گیا ہے کلیے۔چنانچہ ہمارے انہیں قیدیوں نے جو راہ مولیٰ میں قید ہوئے انہوں نے جو مجھے خطوط لکھے ہیں اُن سے پتا چلتا ہے۔نہایت ہی دردناک مناظر سامنے آئے ہیں۔بعض جیلوں سے پتا چلا کہ بعض ہندوؤں کو بیس بیس سال سے قید میں ڈالا ہوا ہے اور یہ شک اُس وقت پڑا کہ یہ شاید انڈیا کے جاسوس ہیں نہ کوئی مقدمہ نہ اُس کی کوئی دیکھ بھال کسی نے مڑ کر اُن کی خبر نہیں لی کلیہ بھلا دیا گیا۔بعض قیدیوں کے متعلق پتا چلا کہ آوارگی میں اُن کا چلان ہوا کسی دوسرے شہر سے آئے تھے اور جب انہوں نے شور مچایا تو ان کو آہستہ آہستہ پاگل قرار دینا شروع کیا، اُن پر مظالم کیے گئے چونکہ مقدمہ کوئی نہیں کوئی اصول نہیں ہے اُس قید کا اس لیے بعض واقعہ پاگل ہو کر بعض کال کوٹھریوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ایسے ہی ایک قیدی سے جو بالکل پاگل دکھائی دیتا تھا ایک ہمارے اسیر راہ مولیٰ نے تعلق پیدا کیا، اُس کے پاس پہنچا اور وہ کلمے میں قید ہونے والوں میں سے تھا ایک اور آہستہ آہستہ اُس نے محسوس کیا کہ وہ تو عقل کی باتیں بھی کر رہا ہے۔کچھ دیر کے بعد وہ اُس سے کھل گیا اُس نے کہا میں تو ٹھیک ٹھاک ہوں مجھے تو ان بدبختوں نے پاگل کیا ہوا ہے۔اتنے سال ہو گئے ہیں گوجرانوالہ میں میں چل رہا تھا ایک جگہ فلاں جگہ سے میں آیا تھا۔مجھے پولیس نے خواہ مخواہ پکڑلیا میں نے بھی آگے سے اکثر دکھائی ہوگی، یہ تو نہیں کہا اُس نے کہ دکھائی مگر میرا یہ اندازہ ہے کہ وہ آگے سے بولا ہوگا تو اُس کو پکڑ کر جیل میں ٹھونس دیا اور چونکہ کوئی باقاعدہ کارروائی نہیں ہوئی اس لیے اُس کو نکالنے کا رستہ کوئی نہیں ہے اور اب اُس کی حالت یہ تھی کہ وہ جیل میں چنیں مارتا اور پاگلوں والی حرکتیں کرتا اور واقعہ حقیقت میں وہ پاگل بھی نہیں تھا۔ایسے ایسے دردناک واقعات اور بھی ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ہماری جیلوں میں انتہائی مظالم ہورہے ہیں اور شدید رشوت ستانی بھی چل رہی ہے ساتھ۔کسی غریب کی مدد کرنے کے لیے جو