خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 342
خطبات طاہر جلدے 342 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء علی حیے دو معنے ہیں اس کے اور بھی کئی معنے ہیں لیکن یہ دو معنے خصوصیت سے ہیں کہ خدا کی محبت کی خاطر اور علی حبہ اس کام کی محبت کی خاطر اپنی ذات میں یہ کام اُن کو اتنا محبوب لگتا ہے اور اتنا پیارا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی جزا اس کام میں جاتی ہے ان کو۔پس علی حبہ کا یہ معنی خصوصیت سے پیش نظر رکھیں آپ جب ان کی خدمت کریں گے تو آپ کو وہی ان کی محبت کے نتیجے میں خدمت کی جزاء وہ خدمت ہی نظر آئے گی اور ایسا لطف محسوس ہو گا کہ آپ سمجھیں گے کہ اب اگر خدا زائد جزاء دے دے تو یہ اس کی مرضی ہے ورنہ ہم نے اپنا حق حاصل کر لیا۔لیکن میعار کو اور بلند کریں اور حب کا یہ معنی پیش نظر رکھیں کہ خدا کی محبت کی خاطر، اللہ نے فرمایا ہے اس لیے ہم نے یہ کام کرنا ہے۔تو پھر اور بھی زیادہ لطف بڑھ جائے گا اور پھر جواب میں جو خدا کی محبت نصیب ہوگی وہ تو نا ختم ہونے والی ہے۔بندوں کی محبت میں آپ کام کرتے ہیں مزہ تو آتا ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد یہ لوگ بھول جائیں گے آپ کو، کوئی بعید نہیں کہ Anti-Ahmadia Riots بھی آئندہ ہوں ،مولوی شور مچائیں تو یہی لوگ جن کی آپ نے خدمت کی ہے یہی اُٹھ کھڑے ہوں آپ کو مارنے کے لئے۔چنانچہ ۱۹۵۳ء میں ہم نے یہی دیکھا کہ وہ بستیاں جہاں احمدیوں نے لاہور میں خصوصیت سے خدمتیں کیں تھیں۔فسادوں کے وقت وہ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔اُس سے پہلے بھی اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے۔تو عَلی حبہ کا مضمون اور بلند کر کے دیکھیں اور بھی زیادہ لطف بڑھ جائے گا اور دائی ہو جائے گا۔خدا تو نہیں کھلایا کرتا اپنی خاطر کام کرنے والوں کو ، بندے بُھلا دیا کرتے ہیں۔اس لیے اس نیت کو خالص کر لیں مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کا جو مضمون اس صورت میں چلا ہے اُس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس لیے خدمت کریں کہ آپ نے خدا کی محبت حاصل کرنی ہے اور خدا کے پیار کی خاطر یہ کام کرنے ہیں۔اسی ضمن میں جہاں جہاں اسیروں تک پہنچا جا سکتا ہے اُن کی بھی دیکھ بھال کی کوشش کرنی چاہئے۔بعض ممالک میں تو قانونا پابندیاں ہیں, مجبوریاں ہیں لیکن پھر بھی جو احمدی ہیں جو کوشش کرتے رہتے ہیں اُن کو اللہ تعالیٰ رستے بھی عطا فرما دیتا ہے۔چنانچہ یورپ میں امریکہ میں بہت سے احمدی ہیں جنہوں نے رسائی حاصل کر لی ہے۔قید خانوں تک اور اُن کے افسران نے اُن کو اجازت دی ہے وہ بعض قیدیوں سے ملتے ہیں اُن کی خدمت کرتے ہیں ، ان سے حسن سلوک کرتے