خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 329
خطبات طاہر جلدے 329 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء اچھی باتوں کی طرف بلایا جائے تو اعراض کرتے ہیں۔باوجود اس کے کہ عبادت بھی کرتے ہیں ، باوجود اس کے کہ اُن میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کی راتیں عبادت کی وجہ سے آباد دکھائی دیتی ہیں اور مسجد میں بھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں لیکن بدنصیبی سے اسلام کی بہترین تعلیم پر عمل کرنے سے قاصر ہیں۔چنانچہ سارے عالم اسلام میں جو فساد دکھائی دے رہا ہے اُس کی وجہ یہی ہے۔بدنصیبی سے اُن کے علماء جب اُن کو فساد کی طرف بلاتے ہیں تو وہ دوڑتے ہوئے ، لبیک کہتے ہوئے اُس کی طرف آتے ہیں اور اگر وہ اُن کو نیکی کی طرف بلائیں، معاشرے میں حسن معاشرہ پیدا کرنے کی کوشش کریں ،اُن کے اخلاق کو بلند کرنے کی کوشش کریں تو یہ آواز جس طرف سے بھی اُٹھے بہرے کانوں پر پڑتی ہے اور اُس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔یہ وہ مضمون ہے جس کا خاص طور پر ان دنوں پر اطلاق ہو رہا ہے۔اس لیے میں نے اس کو خصوصیت سے چنا ہے۔پچھلے دنوں میں نے کچھ نیک تحریکات جماعت کے سامنے رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر طرف سے ایسا خوبصورت عمل درآمد کا سلسلہ شروع ہوا کہ اُس سے نظر خیرہ ہو جاتی ہے۔جمعہ کی تحریک کی تو ساری دنیا میں ہر طرف سے خطوط ایسے ملنے شروع ہوئے کہ اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی لوگوں نے حیرت انگیز قربانی کے مظاہرے بھی کیے اور بعض لوگوں نے تو نوکریاں چھوڑ دیں۔ایسی نوکریوں کو الوداع کہہ دیا جن کے نتیجے میں جمعہ سے محرومی ہوتی تھی اور پھر اللہ تعالی نے بھی ایسے لوگوں سے بہت ہی پیار اور محبت کا سلوک فرمایا۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک دوست کا خط آیا جرمنی سے کہ میں نے اپنے باس (Boss) سے جو بھی اُس کا آفیسر تھا اُس سے میں نے کہا دیکھو ہمیں تحریک ہے اوّل تو خدا کا حکم پہلے سے تھا لیکن غفلت تھی اس طرف سے لیکن اب ہمیں یاد دہانی کروائی گئی ہے اور اب اس کے بعد مجھے جمعہ پڑھنا ضروری ہے۔اس لیے آپ مجھے اجازت دیں۔اُس نے کہا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کوئی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اُس نے کہا پھر یہ آخری دن ہے میرا، آج کے بعد رخصت ہے۔وہ لکھتا ہے کہ میرے پاس اور کوئی کام نہیں تھا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ میں خدا کی خاطر کر رہا ہوں اللہ تعالی خود میرا نگران ہوگا اور میرا والی ہو گا۔چنانچہ وہ کام چھوڑ کر گھر گیا ہے دوسرے دن اُس سے بہت بہتر کام کی اُس کو آفر ملی یا اُس نے پہلے درخواست دی ہوئی تھی تو اُس کی وجہ سے جواب آیا تنخواہ میں زیادہ اور پہلی شرط انہوں