خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 323
خطبات طاہر جلدے 323 خطبه جمعه ۶ مئی ۱۹۸۸ء صلى الله گناہ میں ایک دائی حالت اختیار کر چکے ہوتے ہیں۔بار بار کے مواقع کے باوجود تو بہ کی طرف مائل ہی نہیں ہوتے۔چنانچہ فرمایا وَلَوْ تَرَى اِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا تُكَذِّبَ بِايْتِ رَبَّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَالَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ ) (الانعام ۲۸ - ۲۹) کہ کیا تو نہیں جانتا ایسے لوگوں کو کیا تو نہیں دیکھتا ایسے لوگوں کو ، مطلب یہ ہے کہ ہم تجھے خبر دے رہے ہیں کہ ایسے لوگ ان لوگوں پر ایک ایسی حالت آئے گی وَلَوْ تَرَى إِذْ وَقِفُوا یعنی مخاطب کا صیغہ ہے مگر مراد یہ نہیں کہ اُس وقت رسول کریم ﷺ یا مومن دیکھ رہا ہو گا مراد یہ ہے کہ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا تمہیں پہلے ہی آگاہ نہیں فرما چکا ان لوگوں کی ایسی حالت سے جو ان پر آنے والی ہے اِذْ وَقِفُوا عَلَى النَّارِ کہ جب یہ آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے فَقَالُوا يُلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِايْتِ رَبَّنَا - کاش ایسا ہو کہ ہمیں لوٹا دیا جائے اور ہم پھر ہرگز خدا تعالیٰ کی آیات کا اپنے رب کی آیات کا انکار نہیں کریں گے۔وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اور یقیناً مومنین میں سے ہوں گے۔فرمایا: بَلْ بَدَ الهُمْ مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ اس سے پہلے اپنی جو حالتیں وہ چھپائے ہوئے تھے۔وہ اب اُن کے لیے ظاہر کر دی گئی ہیں۔مراد یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مومن ہی شمار کر رہے ہوتے تھے ، اپنے آپ کو ایمان والوں میں گنا کرتے تھے۔آج پر دے اُٹھنے کا وقت آیا ہے۔پس دو قسم کے پردے ہیں ایک استغفار کا پردہ ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور وہ ستاری کی چادر میں لپیٹتا ہے ایک خواب غفلت کا پردہ ہے جو انسان اپنے ارد گرد لپیٹ لیتا ہے اور خود اپنے حال سے پھر بے خبر ہو جاتا ہے۔فرمایا آج وہ پر دے اٹھنے کا دن آیا ہے، آج تمہاری اصلی حالت تمہیں دکھائی گئی ہے اور معافی کا سوال اس لیے نہیں وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ خدا جانتا ہے کہ اگر ان کو آج بھی لوٹا دیا جائے تو بالکل وہی باتیں پھر دوبارہ کریں گے جو پہلے کرتے آئے ہیں۔اتنے پکے ہو چکے ہیں اپنی کج روی میں کہ اس راہ کو اب وہ چھوڑ نہیں ست و إِنَّهُمْ لَكُذِبُونَ جھوٹ بول رہیں ہیں۔پس اس لیے وہ جو آخری صبح ہے وہ بھی طلوع ہوتی ہے اور کچھ لوگ اُس وقت بھی استغفار