خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 321 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 321

خطبات طاہر جلدے 321 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔جس طرح ہمیں مانگنا آئے گا ہم تجھ سے مانگتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق تھا کہ جب کوئی وظیفہ کے متعلق پوچھتا تھا کہ وظیفہ بتا ئیں تو آپ سب سے پہلے استغفار کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔فرماتے تھے استغفار کیا کریں سورہ فاتحہ پڑھا کریں۔درود شریف پر مداومت اختیار کریں۔اسی طرح لاحول اور سبحان اللہ پر مداومت کریں اور فرماتے تھے کہ بس ہمارے تو یہی وظائف ہیں۔پھر روایت آتی ہے کہ جب کوئی پوچھتا تھا کہ کوئی وظیفہ بتائیے تو آپ فرماتے مثلاً ایک صاحبنے سوال کیا کہ یا حضرت ہم کو نسا وظیفہ پڑھا کریں تو حضور فرماتے الحمد للہ اور درود شریف اور استغفار اور دعا پر مداومت اختیار کرو اور دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کثرت سے پڑھا کرو۔(ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر ۴۰۲) بہر حال یہ استغفار کا مضمون اور یہ نئی ٹی میں طلوع ہونے کا مضمون انسان کی زندگی میں ہمیشہ اس کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے اور بعضوں کی زندگی میں جن کی ترقی معکوس ہوتی ہے وہ واپس کی طرف ان کے قدم لوٹنے شروع ہوتے ہیں اور وہ دن بدن روشنی سے اندھیروں میں داخل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اس لیے تو بہ کو ہمیشہ مداومت کے ساتھ پکڑے رہنا ایک باشعور انسان کے لئے ضروری ہے۔تو بہ کے متعلق قرآن کریم میں مختلف مضامین بیان فرمائے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ ایسی تو بہ کرتے ہیں کہ ان گناہوں کے طرف جن سے متعلق وہ تو بہ کر چکے ہوتے ہیں پھر مڑ کر نہیں دیکھتے۔خدا پر فرض ہے کہ ان کی توبہ قبول کرے۔پس یہ وہ سابقون ہیں تو بہ میں جن کے متعلق خدا نے یہ حتمی وعدہ دے دیا ہے کہ مجھ پر فرض ہو گیا ہے کہ میں تمہاری تو بہ کو قبول کروں اور تمہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔پھر فرمایا ایسے لوگ بھی ہیں جو عمل صالح کو بُرے اعمال کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔آج تو بہ کی کل ٹوٹ گئی پھر تو بہ کی استغفار کیا پھر لغزش ہوگئی۔ایسے لوگوں کے ساتھ قطعی مغفرت کا وعدہ تو نہیں لیکن خدا تعالیٰ جو واسع المغفرۃ ہے اور وہ چاہے تو اُن کے ساتھ مغفرت کا سلوک فرمائے۔پس ایسے لوگوں کو جدو جہد کرتے رہنا چاہئے تو بہ پر مداومت اختیار اور استغفار کے ذریعے خدا سے بخشش طلب کرنے اور اس مضمون میں وہ صابر ہو جائیں کرنے کی۔اس مضمون میں وہ صبر اختیار کریں اور پکڑے رہیں اور پھر خدا سے خیر کی امید رکھیں۔