خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 315
خطبات طاہر جلدے 315 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء طرح کام کرتا ہے کیونکہ استغفار کا مطلب ہے اپنے آپ کو ڈھانپنا۔دفاع کرتا ہے آئندہ گنا ہوں سے تو استغفر الله ربی من کل ذنب واتوب اليه جب حضور اکرمہ فرماتے ہیں۔یا دیگر انبیاء تو مراد یہ ہے کہ آئندہ ہر قسم کے گناہوں سے ہم بخشش طلب کرتے ہیں۔پس سابقہ کے متعلق تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ذنب ان معنوں میں ہے کہ وہ لطیف بشری کمزوریاں جو انسان کے مقام کے لحاظ سے الگ الگ تعریف پیدا کرتی چلی جاتی ہے الگ الگ تعریف میں داخل ہوتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم جب یہ فرماتا ہے رسول اکرم ﷺ کے متعلق لِّيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَرَ (الفتح بس) تو اُس کا یہ معنی نہیں ہے کہ تو آئندہ گناہ کرتا چلا جائے نعوذ باللہ من ذالک اور خدا تعالیٰ تجھے معاف فرما تا چلا جائے بلکہ یہ مطلب ہے کہ جس طرح ماضی میں خدا نے تیری گناہوں سے حفاظت فرمائی اسی طرح مستقبل میں بھی خدا تیری حفاظت فرماتا چلا جائے گا یا ماضی کی نسبت سے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح ماضی میں بہت ہی لطیف بشری کمزوریاں تجھ سے ظاہر ہوئیں جن سے خدا نے درگز رفرمائی آئندہ بھی اگر کبھی کوئی لطیف بشری کمزوریاں تجھ سے ظاہر ہوئیں تو خدا تعالیٰ تجھ سے بخشش کا سلوک فرمائے گا۔ایک اور بہت ہی لطیف معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذنب کا ایسا بیان فرمایا ہے جس کا آج کل کی سائنسی دریافتوں سے تعلق ہے۔ایک موقع پر سیرت مہدی جلد سوئم صفحہ: ۱۵ اپر ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تقریر میں فرمایا ، میرے علم میں وہ تقریر نہیں کہ وہ کہاں طبع ہوئی ہے لیکن سیرۃ مہدی میں حوالہ ہے تو وہ ضرور ملفوظات میں یا کہیں اُس کا ذکر ہوگا۔آپ نے فرمایا کہ یہ جو استغفر الله ربى من كل ذنب واتوب اليه پڑھنے کا " کثرت سے ذکر آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ سے انسان کو گویا ایک ذنب یعنی دم لگ جاتی ہے جو کہ حیوانی عضو ہے اور یہ انسان کے لیے بدنما اور اُس کی خوبصورتی کے لیے ناموزوں ہے۔اس واسطے حکم ہے کہ انسان بار بار یہ دعا مانگے اور استغفار کرے تا کہ اُس حیوانی دم سے بیچ کر اپنی انسانی خوبصورتی کو قائم رکھ سکے اور ایک مکرم انسان بنار ہے۔“ (سیرۃ المہدی جلد اول حصہ سوم، روایت نمبر ۴۷۸ صفحه: ۵۰۸)