خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 316
خطبات طاہر جلدے 316 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء جولوگ ارتقاء کے مضمون سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ارتقاء کے نظریہ کی تائید میں سائنسدانوں نے ایک بڑا اہم ثبوت یہ پیش کیا کہ انسان جب رحم مادر میں مختلف شکلیں بدلتا ہے تو اُس کی ابتدائی سب شکلیں جب تک وہ انسانی شکل کے مقام تک نہیں پہنچ جاتا حیوانی شکلوں سے مشابہ ہوتی ہیں اور یہاں تک وہ مشابہت ہوتی ہے کہ ایک موقع پر باقاعدہ جس طرح بندر کی دم نکلی ہوتی ہے بچے کی دم بھی آپ کو دکھائی دے سکتی ہے اگر آپ اُس وقت ماں کا پیٹ چیر کے دیکھیں۔یا آج کل جو آلے نکل آئیں ہیں ان کی رو سے اگر آپ ایکسریز لیں یعنی High Resolution کے ایکسرے میں دیکھیں گے تو آپ کو پتا لگ جائے گا کہ ایک وقت میں بچے کی شکل جانور سے اس طرح مشابہ ہے کے باقاعدہ اس کی دم نکلی ہوئی ہے اور پھر جب وہ ترقی کرتا ہے تو وہ دم غائب ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ عرفان عطا فر مایا کہ ذنب کے اُن معنوں کی طرف توجہ ہوئی جو ظاہری معنے ہیں یعنی دم۔ذنب کا ایک ظاہری معنی دم ہے۔تو آپ نے ان معنوں پر غور کر کے اس عظیم نفقہ کو پالیا ہے۔فرمایا کہ ذنب سے مراد یہ ہے کہ انسان جب بھی حیوانی صفات کی طرف لوٹتا ہے تو وہ مکرم نہیں رہتا وہ کمزوریاں جو خدا نے جھاڑ دی تھیں اس سے یا اس لائق بنادیا تھا کہ وہ ان حیوانی کمزوریوں سے نکل کر ایک کامل اور خوبصورت انسان کے طور پر ظاہر ہو وہ کمزوریاں اُس کے اندر اُس دم کی طرح ظاہر ہو جاتی ہیں۔اس لیے لفظ ذنب ایک داغ کے معنوں میں استعمال فرمایا ہے۔تو ان معنوں میں جب خدا تعالیٰ کے عارف باللہ اور مقدس لوگ استغفار کرتے ہیں تو مراد یہ ہوتی ہے کہ اے خدا! ہمیں ہر قسم کی ایسی بشری کمزوریوں سے الگ رکھنا جن کے نتیجے میں تیرے حضور ہمیں کچھ بد زیب ہو کہ تو جب اپنی آنکھ سے ہمیں دیکھے تو اُس دم کے آثار کو پالے جو دم ماضی میں ہم چھوڑ آئیں ہیں۔یعنی ایسا ہونا چاہئے کہ ہم ان دموں کو ماضی میں چھوڑ آئے ہیں اور اب ہمارے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہ ہو لیکن جب ہم ذنب کرتے ہیں تو دوبارہ اُن دموں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، دوبارہ وہ ڈ میں اگنی شروع ہو جاتی ہیں۔تبھی جو انسان بدنصیبی میں، گناہوں میں بڑھ جاتے ہیں اُن کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ كُونُوا قِرَدَةً خَبِينَ (البقرہ: ۲۶) اگر تم نے اصرار کرنا ہے ان گناہوں پر پھر تو تمہاری ڈ میں اُگ آئی ہیں اب اور اُس کے نتیجے میں یہ طبعی سزا تمہارے لیے ہے کہ قِرَدَةً خَسِيْنَ کی ادنیٰ حالت کی طرف لوٹ جاؤ اسفل السافلین میں بھی یہی مضمون ہے