خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 27
خطبات طاہر جلدے 27 خطبه جمعه ۸/جنوری ۱۹۸۸ء اس ضمن میں ایک بات خصوصیت سے آج جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام قبلہ کا نہیں ہے قبلہ نما کا ہے۔آپ خود مقصود بالذات نہیں ہیں بلکہ خدا مقصود بالذات ہے، خدا کی طرف لے جانے والے ہیں۔اس پہلو سے قرآن کریم نے آپ کو وسیلہ قرار دیا ہے اس لئے ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور آپ کے عشق اور آپ کے پیار کو آخری مقام سمجھ لیں اور یہ سمجھیں کہ اس محبت کے نتیجہ میں باقی کام خود بخود ہوں گے اور خدا سے کسی ذاتی تعلق کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔یہ وہ خطرہ ہے جو پہلی قوموں کو بھی پیش آیا اور بہت سی قو میں اس خطرہ میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوگئیں اور قرآن کریم میں اس کی واضح طور پر نشاندہی فرمائی ہے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھئے کہ آپ بھی ایک رستہ تھے خدا تک پہنچانے والا اسی لئے بائیبل نے یعنی New Testament نے یہ اعلان کیا حضرت عیسی کی زبان سے کہ میں Way ہوں I am the way میں راستہ ہوں اور عیسائیوں نے اس بات کو بہت اچھالا ہے کہ دیکھو حضرت عیسی علیہ السلام تو راستہ تھے باقی کوئی نبی گویا رستہ نہیں ہے۔یہ ان کی جہالت ہے اور دنیا کے مذاہب سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کا ہر نبی وسیلہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور رستہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا خدا اس کے متعلق اعلان فرماتا ہے کہ یہ وسیلہ ہے اگر مجھ تک پہنچنا ہے تو اس کے رستے سے آؤ لیکن رستہ تو خود منزل نہیں ہوا کرتا اگر رستہ منزل بن جائے تو وہ منزل سے محروم کرنے والی چیز ہو جائے گا نہ کہ رستہ، آرستہ تو اپنے اندر یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ آگے پہنچانے والا ہے۔اس لیے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اس بات میں ہے کہ آپ آگے پہنچانے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اندر کی راہ دکھائے ( در شین صفحہ: ۸۳) یہ وہ نبی جو علم و عرفان کے اوپر سے پردے پر دے اٹھاتا ہے اور حضرت احدیت جل شانہ اللہ تعالیٰ کے اتنا قریب کر دیتا ہے کہ گویا اس کے ساتھ تعلق میں انسان اندر والا کہلانے لگ جائے جس طرح گھر میں کچھ لوگ غیر محرم ہوتے ہیں کچھ اجنبی رہتے ہیں ان کو یہ حق نہیں ہوا کرتا کہ وہ اندر آجایا کریں لیکن جو اپنے ہیں وہ کس بے تکلفی سے دروازے کھولتے ، پر دے اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوتے ہیں۔تو اندر کی راہ دکھانے کا یہ مطلب ہے کہ خدا والے بناتا ہے اور خداوالوں میں انسان کا شمار ہونے لگتا ہے اس پہلو سے قرآن کریم نے پرانی قوموں کی غلطی کی طرف