خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 313

خطبات طاہر جلدے 313 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء لوگوں کو پتا بھی نہیں۔وہ لوگ جو انسانی جسم کی ماہیت سے باخبر ہیں اُن کو پتا ہے کہ ہر لحظہ خون گندہ ہوتا رہتا ہے اور ہر لحظہ خون کی صفائی کی ضرورت پڑتی ہے اور دل ہے جو صفا خون کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے اور گندے خون کو صفا خون سے الگ کرنے کے لیے ایک مرکزی مقام رکھتا ہے۔فرمایا اس پہلو سے انسانی دل کو خدا تعالیٰ سے ایک مماثلت ہے۔پس جب تک خدا کو اپنے دل میں داخل نہیں کرو گے تو روحانی طور پر تمہارے روحانی خون کی صفائی کا انتظام نہیں ہو سکتا۔اس لیے اگر تم عصمت چاہتے ہو تو وہ کچی عصمت جو خدا سے ملتی ہے تو اپنے دل کو خدا کا دل بناؤ ، خدا کی آماجگاہ بنا لو اور خدا جب دل میں داخل ہوگا تو وہ اُسی طرح کام کرے گا روحانی لحاظ سے جس طرح تمہارا جسمانی دل تمہارے جسمانی خون کی صفائی کا کام کرتا ہے۔فرمایا استغفار اور توبہ کا یہ مطلب نہیں جو آج کل لوگ سمجھ بیٹھے ہیں۔استغفر اللہ استغفر اللہ کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا جبکہ اس کے معنی بھی کسی کو معلوم نہیں۔‘“ اسی لیے میں نے پچھلے خطبے کی تمہید میں یہ بات عرض کی تھی کہ استغفار کے معنی کو سمجھے بغیر اس کے مفہوم پر اطلاع پائے بغیر آپ زبان سے استغفار کہتے ہیں۔تو ایک نیکی کی طرف میلان کا اظہار تو ہو جاتا ہے۔لیکن حقیقت میں اُس سے استفادہ نہیں کر سکتے۔فرمایا استغفر الله ایک عربی زبان کا لفظ ہے۔اُن لوگوں کی تو چونکہ یہ مادری زبان تھی اور وہ اس کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھے ہوئے تھے اس لیے تو ان کے لیے کوئی مشکل اور اُلجھن نہیں تھی۔استغفار کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ سے اپنے گزشتہ جرائم اور معافی کی سزا سے حفاظت چاہنا ایک یہ ہے اور آئندہ گناہوں سے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا۔استغفار انبیاء بھی کرتے تھے اور عوام بھی“۔پس یہ ایک اور فرق انبیاء اور عوام کی استغفار کا آپ نے بیان فرما دیا اور اُس پہلو کی طرف ہماری توجہ دلا کر یہ مضمون خوب روشن کر دیا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہے کیوں کثرت سے استغفار