خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 307

خطبات طاہر جلدے 307 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ میلان اگر بہت گہرا طبیعت میں پایا جائے تو ایسے شخص کو ہم ہمیت سے مغلوب یا غضب سے مغلوب کہہ سکتے ہیں۔استغفار اُن لوگوں کے لئے ہر ہر صبح ایک نئی خوشخبری لاتا ہے کہ جو جو غلطیاں ان سے اپنی مغلوبیت کی حالت میں سرزد ہوتی چلی جاتی ہیں۔اگر وہ مستقل استغفار کرتے رہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کے گناہ بخشتا رہتا ہے۔چنانچہ ایسے لوگوں کو مایوس نہیں ہونا چاہئے اور مسلسل جد و جہد کرتے رہنا چاہئے۔استغفار بہر حال اس نیت سے ہو گا کہ میں گناہ سے نجات پاؤں اس نیت سے نہیں ہو گا کہ چونکہ خدا غفور و رحیم ہے اس لیے میں بار بار گناہ کروں۔یہ تو ایک شاعر کا مضمون تو کہلا سکتا ہے۔ایک عارف باللہ کا مضمون نہیں کہلا سکتا۔غالب تو کہہ سکتا ہے کہ رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم دھوئے دھبے جامہ احرام کے (دیوان غالب صفحه : ۲۸۱) لیکن ایک عارف باللہ یہ مضمون بیان نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود یہی فرما رہے ہیں کہ تم بے شک گناہ کرتے رہو اور گناہ کے بعد ہر صبح استغفار کر لیا کرو۔گویا کہ صبح کے استغفار سے یہ مراد ہے که ساری رات گناہ میں کئے اور ساری صبح استغفار ہوتا رہے۔یہ ہرگز مضمون نہیں ہے کیونکہ صبح سے پہلے یعنی استغفار کی صبح سے پہلے جو مضمون خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے قرآن کریم میں وہ تو یہ ہے کہ وہ راتوں کو بہت تھوڑا سوتے ہیں، بہت تھوڑا آرام کرتے ہیں۔گناہ کے لیے تو مراد نہیں ہے کہ گناہ کی خاطر جاگے رہتے ہیں اسی لیے وہ صبح استغفار کرتے ہیں۔مراد یہ ہے کہ نیکیوں میں رات بسر کرتے ہیں یا نیکیوں میں رات بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر بھی صبح کو استغفار کرتے ہیں۔اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مضمون کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے جن باتوں پر زور دیا ہے اُن کو خاص طور پر اپنی نگاہ کے سامنے رکھیں۔فرمایا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مغلوب ہیں بہیمیت کی وجہ سے اور اپنی فطری کمزوریوں کی وجہ سے غضب کے تابع ہو جاتے ہیں۔چنانچہ آپ دیکھ لیں جو صاحب غضب لوگ ہیں میں نے بھی دیکھا ہے کہ بڑے بڑے نیک ہونے کے باوجود اُن کی غضبی حالت ان کو کبھی بھی نہیں چھوڑتی۔یہ ایک امر واقعہ ہے ایک ایسا مشاہدہ ہے۔صحابہ میں بھی مختلف مزاج کے مختلف طبیعتوں کے مالک تھے بعض بڑی جلدی غصہ میں