خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 26
خطبات طاہر جلدے 26 26 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۸۸ء ممالک کی بیماریاں اور ہیں بعضوں کو کسی خاص پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے کسی خاص پہلو کی ضرورت ہے اس لئے یہ تو ممکن نہیں ہوگا کہ اس تھوڑے سے عرصہ میں دنیا کے ہر ملک میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے تمام پہلو پوری طرح بیان کئے جاسکیں۔لیکن بعض ممالک کے لئے بعض حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے خاص پہلوؤں کو نمایاں کیا جا سکتا ہے۔اس لئے جماعت کو ایسے کاموں کے لئے لازما منصوبے کے تحت کام کرنا ہوگا اور ہر ملک کا اپنا منصوبہ ہوگا کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انگلستان میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے کون سے پہلوؤں کی ضرورت ہے اس کا فیصلہ انگلستان کے لوگ بہتر طور پر کیسے کر سکتے ہیں۔یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باقی سیرت کے پہلوؤں کی ضرورت نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ اقتضائے حال کے مطابق ماحول اور حالات کے تقاضوں کے پیش نظر کس پہلو سے زیادہ تشنگی محسوس ہو رہی ہے، کسے اولیت دیتے ہوئے پہلے بیان کرنا ضروری ہے اور ایک دفعہ سیرت کا مضمون شروع ہو جائے اور اس سے تعلق پیدا ہو جائے تو پھر یہ مضمون تو مکمل ہوئے بغیر رہتا ہی نہیں۔خود اپنی طلب پیدا کر دیتا ہے مزید کی طلب پیدا کرتا ہے اور یہ جو مزید کی طلب ہے یہ بدی میں بھی قوت پائی جاتی ہے لیکن نیکی میں بھی قوت پائی جاتی ہے۔ہر بدی مزید کی طلب پیدا کرتی ہے اسی طرح ہر سچی نیکی بھی مزید کی طلب پیدا کرتی ہے اور درمیانی جو حالات ہیں وہ بالکل بے معنی ہیں جن کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔دوہی حقیقتیں ہیں اگر سچی نیکی ہے تو اور نیکی کی طلب ضرور پیدا ہوگی اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المومنون : ۹۸) اس آیت میں بھی اور دیگر آیات میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود:۱۱۵) کہ نیکیاں بدیوں کو کھا جاتی ہیں اور نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں اور نیکیاں نیکیوں کو پیدا کرتی ہیں اس قسم کے مضامین قرآن کریم میں کثرت سے بیان فرمائے گئے ہیں۔تو اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے جلسے اگر سچے دل سے منائے جارہے ہوں ہمحبت اور پیار کے نتیجے میں منائے جارہے ہوں تولا زمامزید کی طلب پیدا کریں گے اور جو مضمون بھی سیرت کا بیان ہوا گر وہ سچا ہو اور پُر خلوص ہوتو اس کے نتیجے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت بڑھتی چلی جائے گی اور سیرت کے دیگر پہلوؤں سے طبعاً اتنا پیار ہو جائے گا کہ انسان ان کو مزید حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔