خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 25

خطبات طاہر جلدے 25 25 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۸۸ء کہتے ہیں کہ یہ سال تھا سیرت نبوی منانے کا گویا اب سال ختم ہو گیا اور اس پروگرام کو دیسی اہمیت اب نہیں دیں گے۔یہ درست ہے کہ شروع میں میں نے خصوصی سال کے طور پر ہی کہا تھا لیکن سیرت نبوی کا مضمون تو انسان کی ساری زندگی سے تعلق رکھتا ہے، انسان کی زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے، انسانی زندگی کے گزرنے والے ہر لمحہ سے تعلق رکھتا ہے۔ہر عمر کے انسان سے، ہر نسل کے انسان سے،ہر رنگ کے انسان سے تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ تو توجہ دلانے کی خاطر تا کہ خصوصی توجہ محنت کر کے اس سال کو سیرت نبوی کے بیان کا اور سیرت نبوی کو اپنانے کا خصوصی سال بنایا جائے۔میں نے لفظ سال استعمال کیا تھا مگر یہ پروگرام اب جاری رہنا چاہئے۔یہ تو ختم ہونے والا پروگرام ہی نہیں ہے اور اگر بچے جلسے منائے جائیں سیرت النبی کے یعنی بچے جلسوں سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی طرح نمود و نمائش کی خاطر نہیں بلکہ دلی محبت کے ساتھ جلسے منائے گئے ہوں تو پھر ایسے جلسے منانے والا خود ان کو چھوڑ ہی نہیں سکتا، پھر ایسے پروگرام میں شمولیت کرنے والا تو ان کا ہو رہتا ہے۔اس کے لئے ویسے ہی ممکن نہیں ہے کہ اس پروگرام سے صرف نظر کر کے اور باتوں کی طرف توجہ کرے۔مزید برآں دوسرے جتنے بھی پروگرام میں نے آپ کے سامنے پیش کئے ہیں وہ سارے کے سارے سیرت نبوی سے تعلق رکھتے ہیں۔مسلمان کی زندگی کا کوئی پروگرام بھی ممکن نہیں ہے کہ سیرت نبوی کے حوالہ کے بغیر طے ہو سکے یا اگر سیرت نبوی کے حوالہ کے بغیر طے کرنے کی کوشش کی بھی جائے تو وہ ایک نامکمل کوشش ہوگی، ایک ناقص اور کمزور کوشش ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے تعلق کے بغیر، آپ کی سیرت کے حوالہ کے بغیر کوئی نیکی بھی مکمل نہیں ہو سکتی۔اس لئے سیرت نبوی کی مضمون کو جاری رکھنا ضروری ہے اور اس ضمن میں کثرت کے ساتھ ساری دنیا میں جلسے منانے چاہئیں تا کہ با قاعدہ علماء تقریریں اچھی طرح تیار کر کے جماعت کے سامنے اس مضمون کو بیان کریں۔گھروں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تذکرے پہلے سے زیادہ ہونے چاہئیں۔آپ کی سیرت کے مختلف پہلو گھروں میں مجالس میں بیان ہونے چاہئیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے مضمون سے تعلق رکھنے والا لٹر پچر کثرت سے شائع ہونا چاہئے ،مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہونا چاہئے اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سیرت کے پہلو جس جس ملک میں ضرورت ہو نمایاں طور پر پیش کئے جائیں۔بعض ممالک کی بیماریاں اور ہیں بعض