خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 301

خطبات طاہر جلدے 301 خطبه جمعه ۶ مئی ۱۹۸۸ء ہیں کسی احسان کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا لیکن اس لطیف رنگ میں خدا کی عبادت کرنے والوں کا ذکر بھی احسان کا ایک معراج ہے اور بہت ہی لطیف اس میں احسان کے مزید اشارے کھلتے ہیں۔تو وہ موسم جس میں عام انسان بھی جس کو عام طور پر راتوں میں خدا کی عبادت کے لیے اٹھنے کی توفیق نہیں ملتی وہ بھی اب ایسے موسم میں داخل ہو رہے ہیں جہاں چند دن ایسے ہیں جن دنوں میں یا یوں کہنا چاہئے کہ چند راتیں ایسی ہیں کہ جن راتوں میں وہ اس آیت کے مصداق بن سکتے ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی عمل ہے جو عام دنوں میں بھی بہت عبادت فرمایا کرتے تھے۔رمضان میں اُس عبادت میں مزید اضافہ فرما دیا کرتے تھے اور جب آخری عشرہ میں داخل ہوتے تھے تو گویا عبادت کے لیے اس طرح وقف ہو جاتے تھے کہ دیکھنے والے کو احساس ہوتا تھا کہ پہلی عبادت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔بظاہر تو یہ سوچنے کی گنجائش نظر نہیں آتی کہ عام عبادت پر رمضان میں کیسے اضافہ فرماتے ہوں گے اور پھر رمضان کی عبادت میں مزید اضافہ لیکن دیکھنے والے پر یہی تاثر ہوتا تھا کہ آپ نے اور بھی زیادہ عبادت کو بڑھا دیا ہے۔پس یہ وہ دن آرہے ہیں اور وہ راتیں آرہی ہیں جن میں خصوصیت کے ساتھ استغفار کے موسم پوری شان کے ساتھ ، پوری بہار کے ساتھ ہم پر ظاہر ہورہے ہیں اور ان دنوں سے اور ان راتوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔قَلِيلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ کا مضمون چند دن میں انسان پر صادق آجائے تو اللہ تعالیٰ کا فضل آئندہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کر سکتا ہے جو ان لوگوں کے ساتھ کرتا ہے جن پر ہمیشہ یہ مضمون صادق آتا ہے۔اس کے آخر پہ پھر فرمایا بِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ایک تو اس آیت میں یہ بھی ایک عجیب حسن ہے کہ وہ جن کی راتیں جاگ کے کٹتی ہیں اُن کی صبحیں بھی اُن کے جسمانی آرام کے لیے نہیں آتیں گویا کہ راتیں تو جاگ کے کاٹیں اور صبح ہوئی تو پھر استغفار شروع کر دیا۔ان کی صبحوں کا تصور اُس شاعر کی صبحوں کی تصور سے کتنا مختلف ہے۔جو کہتا ہے کہ: عہد جوانی رورو کاٹا پیری میلی آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا