خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 296

خطبات طاہر جلدے 296 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء جاتا ہے اس مضمون کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم کی اس آیت کو سمجھنا چاہئے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہنم کہے گی کہ هَلْ مِنْ مَّزِيدِ ( ق : ۳۱) جتنی گناہوں کی طلب بڑھے گی اُتنا ہی مزید کی خواہش بڑھتی چلی جاتی ہے اور عذاب میں بھی اُتنا ہی زیادہ انسان خود اپنے عذاب کو طلب کے ذریعے گویا بڑھاتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اور قوت بہیمیہ غالب اور نفس طالب ہو جاتا ہے آپ نے صرف لفظ طالب فرمایا: سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں جن کا وجو دروز مرہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے اُن کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہوسکتا کیونکہ جو خدا نے لگا دیا اُس کو کون دور کرے ہاں خدا نے اُن کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔وہ کیا ہے؟ تو بہ واستغفار اور ندامت یعنی جبکہ بُر افعل جوان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی بُرا خیال دل میں آوے تو اگر وہ تو بہ واستغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔جب وہ بار بار ٹھو کر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں دیتا ٹھوکر تو وہ ندامت اور تو بہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔یہی حقیقی کفارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی مضمون کو کفارہ بیان فرمارہے ہیں کہ کفارہ کا باقی جو مضمون ہے وہ تو محض وہمہ ہے یہی ہے حقیقی کفارہ۔اسی طرف اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ الله يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء ) یعنی جس سے کوئی بدعملی ہو جائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہو کر خدا سے معافی چاہے تو خدا کو غفور و رحیم پائے گا۔اس لطیف اور پر حکمت عبادت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس نا قصہ کا خاصہ ہے جو اُن سے سرزد ہوتا ہے اس کے مقابل پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت اور رحم ہے اور اپنی ذات میں وہ غفور و رحیم ہے یعنی اُس کی مغفرت