خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 295

خطبات طاہر جلدے 295 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء ڈالنے کے لیے میں نے اکٹھی کی تھیں لیکن ایک ہی آیت میں اتناوقت گزر چکا ہے کہ میرا خیال ہے کہ اب پھر کبھی آئندہ وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں انشاء اللہ۔ہو سکتا ہے کہ اگلا خطبہ بھی اسی مضمون پر دیا جائے کیونکہ رمضان کا موسم خصوصیت سے استغفار سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: کوئی چور یا خونی چوری یا خون کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں اسی وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام بُرا کیا اچھا نہیں کیا لیکن وہ ایسے القا کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا کیو نکہ اُس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے“ یہ جو لفظ نور قلب ہے اس کی بنیاد المُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ میں ہے وہ ہیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے یہاں اسی نور قلب کی بات ہورہی ہے، اسی صبح کی بات ہو رہی ہے بعضوں کا نور قلب یعنی بعضوں کی سجیں اتنی دھندلائی جاتی ہیں کہ جسے کہتے ہیں کہ صبح کا ذب ہے ان کی اتنی معمولی روشنی ہوتی ہے کہ ان کو اپنے موٹے موٹے گناہ بھی دکھائی نہیں دیتے حالانکہ خدا تعالیٰ کی آواز بتا بھی رہی ہوتی ہے۔یہاں آواز اور نور کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقابل فرمایا ہے یہ بہت دلچسپ ہے۔جتنا انسان نور قلب سے محروم ہوتا چلا جائے اتنا وہ دوسرے کی ہدایت کا محتاج ہوتا چلا جاتا ہے آواز کے ذریعہ۔چنانچہ اندھے کے لیے آواز ہی روشنی کا کام دیتی ہے تو فرمایا ایسے لوگ ہیں جو دل کے اندھے ہیں اور اُن کو آواز بھی فائدہ نہیں دیتی کیونکہ وہ آواز تو سنتے ہیں خدا تعالیٰ کی کہ تم ٹھوکر کے مقام پر جارہے ہو یہاں گرو گے یا تکلیف پہنچے گی لیکن دل کے ایسے اندھے ہوتے ہیں اور ایسی خود پرستی اُن کے اندر داخل ہو جاتی ہے کہ وہ اُس آواز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور خود سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔اور عقل بھی ضعیف یعنی ان کا نور قلب بھی ضعیف ہو جاتا ہے عقل بھی ضعیف ہوتی چلی جا تی ہے اور قوت بہیمیہ یعنی نفسانی قوت اور جو حیوانی قوت ہے وہ غالب اور نفس طالب ہوتا چلا جاتا ہے یہ قوت جتنی غالب ہوا تنی نفس کی طلب بڑھتی چلی جاتی ہے۔یہ چھوٹے چھوٹے فقرے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بلکہ بعض الفاظ ہیں اُن سب کا قرآن کریم اور احادیث کے مضامین سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے اور ہر ایک کی جڑیں یا قرآن میں ہیں یا سنت میں ہیں۔اب طالب ہوتا چلا