خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 289

خطبات طاہر جلدے 289 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء اس مضمون کو اگر آپ سمجھیں تو استغفار کا وہ مضمون جو حضور اکرم ﷺ کے ساتھ خاص تعلق رکھتا ہے وہی سمجھ نہیں آتا بلکہ شفاعت کا مضمون بھی سمجھ آجاتا ہے۔جب ان صفات میں سے مومن حضور اکرم کے ساتھ ملنا شروع ہوتا ہے، جب ان چاروں صفات میں وہ جوڑ قائم کر لیتا ہے اور پھر وَالمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ میں بھی شامل ہو جاتا ہے تو وہاں سے شفاعت کا ایک امکان روشن ہونا شروع ہو جاتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی شفاعت میں شامل ہونے کا ایک استحقاق پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ان صفات میں کوئی خدا کا بندہ کس حد تک حضور اکرم ہے کے ساتھ پیوند اختیار کر گیا ہے اور کس حد تک وہ پیوند حقیقی ہے اور دائمی ہے۔پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم چونکہ ان سب امور میں کوشش کر رہے ہیں اس لیے ہم شفاعت حضرت محمد مصطفی امیہ کے مستحق ہو گئے ہیں۔استحقاق کا فیصلہ خدا ہی کرے گا مگر رستہ خدا نے بتا دیا ہے کہ اگر آپ یہ رستہ اختیار کریں گے تو آپ استغفار کے مستحق بھی ہوں گے اور استغفار کے بعد پھر شفاعت کا صلى الله مضمون بھی جاری ہوسکتا ہے۔اس پہلو سے اگر ہم دیکھیں تو رمضان کو ایک خاص تعلق استغفار سے ہے اور اسی لیے آج میں نے استغفار کا مضمون چنا ہے۔اگر چہ اس سے پہلے ربوہ میں بھی چند سال پہلے استغفار کے مضمون پر اور تو بہ کہ مضمون پر دو تین خطبے دے چکا ہوں لیکن یہ مضمون اتنا وسیع ہے کہ اسوقت بھی مجھے تشنگی کا احساس تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر رمضان میں بھی اس موضوع پر لب کشائی کی جائے تو تب بھی یہ مضمون ختم ہونے والا نہیں۔بہت ہی اس کے پہلو ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں تو یہ مضمون اتنا گہرائی کے ساتھ اتنی وسعت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ بعض دفعہ ایک ایک فقرے میں ڈوب کر انسان مضامین کا ایک جہان پا جاتا ہے اور وہاں سے پھر اسی سیر میں اتنی باتیں ہاتھ جاتی ہیں اگر ان کا ذکر کیا جائے تو ایک خطبہ اس کے لیے مشکل سے کافی ہو گا۔اس لیے اختصار سے تو بہر حال کام لینا پڑتا ہے لیکن بعض جگہ پھر کچھ تفصیل بھی بیان کرنی پڑتی ہے۔تاہم مقصد میرا یہ ہے کہ آپ بھی استغفار کے مضمون پر غور کیا کریں اور یہ نہ سمجھیں کہ ایک خطبہ سن لیا تو آپ نے استغفار کے مضمون کو پالیا یا دو خطبے سن لیے تو استغفار کا مضمون آپ کو سمجھ آ گیا۔یہ مضمون ساری زندگی پر حاوی ہے اس کا تمام انسانی مفادات سے گہرا تعلق ہے اور یہ سابق سے بھی