خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 285
خطبات طاہر جلدے 285 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء کھلتی ہے تو سب سے پہلے استغفار کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے اور وہ استغفار شروع کر دیتے ہیں۔پس یہاں اس اسحار سے یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اللہ کے بندے صبح تو استغفار کرتے ہیں اور باقی سارا وقت دوسرے کاموں میں مشغول رہتے ہیں یا یوں سمجھیں کہ باقی سارا وقت تو گناہ کرتے رہے اور صبح استغفار کر لیا۔اب رہا یہ مضمون که الصّبِرِينَ وَالصَّدِقِيْنَ وَالْقَنِيِّينَ وَالْمُنْفِقِينَ کا ذکر پہلے کیوں فرمایا گیا۔استغفار کا تعلق انسانی عمل کی ایک کوشش سے ہے اگر انسانی عمل کی کوشش ساتھ شامل نہ ہو تو استغفار بے معنی اور بے حقیقت ہو جاتا ہے۔اس لیے جو یہ کہتے ہیں کہ أَمَنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے ہیں اس لیے ہمارے گناہ بخش دے وہ صرف زبان سے یہ نہیں کہتے بلکہ ان کے اعمال یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کی گہری توجہ گناہ بخشوانے کی طرف ہے اور وہ اپنی کمزوریاں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ وہ صفات حسنہ جن کا استغفار سے گہرا تعلق ہے جو استغفار کی دعا کو حقیقت بخشتی ہیں، اس کو جسم عطا کرتی ہیں، ٹھوس بنا دیتی ہیں۔ٹھوس ان معنوں میں کہ اس کو تصور سے وجود کی دنیا میں اتار دیتی ہیں وہ صفات حسنہ یہ ہیں کہ صبر کرنے والے ہیں اور صبر کے معنی یہاں غموں پر اور دکھوں پر صبر نہیں وہ بھی ہو گا لیکن اس موقع پر خصوصیت سے یہاں صبر کے معنی برائیوں سے بچنا ہے۔چنانچہ یہ تفسیر خود حضرت اقدس محمد مصطفی امی یہ ہی کی تفسیر ہے کہ صبر کا ایک معنی اور بہت اہم معنی برائی سے بچنا ہے۔جس حالت پر انسان ہے اس حالت پر قناعت کر جائے تو یہاں صبر اور قناعت کے مضمون ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَابِةٍ اَزْوَاجًا مِّنْهُمُ (الحجر:۸۹) والا مضمون اس میں داخل ہو جاتا ہے کہ جو چیزیں تمہیں میسر نہیں ہیں انہیں فائل کھیل کر قانون شکنی کر کے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو اور جو کچھ ہے اس پر صبر کر کے بیٹھ جاؤ یہ صبر کا مضمون اس موقع پر زیادہ چسپاں ہوتا ہے اور زیادہ برمحل ہے۔اس لیے یہاں الصُّبِرِین کے معنی خصوصیت سے یہ لینے ہوں گے کہ وہ لوگ جو نیکیوں پر قائم ہو جاتے ہیں اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور جو کچھ ان کو میسر ہے خدا تعالی کے فضل میں سے اس پر صبر کر کے بیٹھے رہتے ہیں۔