خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 284

خطبات طاہر جلدے 284 خطبہ جمعہ ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء متعلق کچھ مزید باتیں آپ کے سامنے بیان کروں گا۔صبر اور صداقت اور قنوت اور انفاق فی سبیل اللہ یہ چار صفات ہیں جو مومن کی بیان فرمائی گئی ہیں اس کے بعد فرمایا وَ الْمُسْتَغْفِرِيْنَ بِالْأَسْحَارِ اور یہ وہ لوگ ہیں جو صبح کے وقت خدا سے صلى الله بخشش طلب کرتے ہیں۔سب سے پہلے تو میں صبح سے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بخشش کے لیے بخشش طلب کرنے کے لیے صبح کا ہونا تو ضروری نہیں ہے۔قرآن کریم سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ ہر وقت استغفار کرنی چاہئے صبح بھی شام کو بھی دن کو بھی ، رات کو بھی اور خصوصیت کے ساتھ راتوں کو اٹھ کر استغفار کرنے کا تو بہت ذکر احادیث میں ملتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی سے کی عبادات کا استغفار سے بہت گہرا تعلق تھا اور بعض دفعہ صحابہ نے تعجب سے پوچھا بھی کہ یا رسول اللہ ! آپ کیوں راتوں کو ایسی کڑی عبادت کرتے ہیں اللہ سے استغفار کرتے ہیں کیا خدا نے آپ کے سارے گناہ بخش نہیں دیئے آپ نے فرمایا کہ ہاں لیکن کیا میں عبد شکور نہ بنوں کیا میں خدا کا شکر کرنے والا بندہ نہ بنوں ( بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر : ۴۴۶۰) اور اس شکر میں استغفار بھی داخل تھا۔یہ تعجب کی بات ہے کہ استغفار کا جو معنی حضرت اقدس محمد مصطفی یہی ہے۔کھولا گیا اس کا شکر سے بھی گہرا تعلق ہے۔اس مضمون سے متعلق میں مزید بعد میں کچھ کہوں گا۔سر دست یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں بِالْأَسْحَارِ میں ایک بہت ہی لطیف نکتہ پوشیدہ ہے جس کو ہمیں پیش نظر رکھنا چاہئے۔انسان جس قسم کے خیالات کے ساتھ رات بسر کرتا ہے صبح اٹھ کر سب سے پہلے وہی خیال اس کے ذہن میں اجاگر ہوتا ہے۔چنانچہ آپ اگر پریشانیوں کی حالت میں رات بسر کریں، پریشانیوں کو سوچتے ہوئے تو آنکھ کھلتے ہی پہلے اسی پریشانی کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے۔آپ کسی دوست کے متعلق سوچتے ہوئے رات بسر کریں تو صبح جب آنکھ ھلتی ہے تو پہلے اس دوست کا خیال آتا ہے۔کسی خاص سفر کے پیش نظر آپ کے ذہن پہ بوجھ ہو کوئی خاص اور کام ایسا ہو جو غالب آ گیا ہو ذہن پر تو صبح اٹھتے ہی پہلے ان باتوں کا خیال آتا ہے۔تو بِالْأَسْحَارِ کے متعلق یہاں بھی فرمایا اور ایک اور جگہ بھی۔بِالْأَسْحَارِ کے ساتھ استغفار کو لگا کر یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا کے مومن بندے صرف جاگتے ہوئے ہی استغفار نہیں کرتے بلکہ سوتے میں بھی استغفار کرتے ہیں اور نیند کی حالت میں بھی ان کے لاشعور میں ہر وقت استغفار کا مضمون گھومتا رہتا ہے۔اس لیے جب آنکھ