خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 283
خطبات طاہر جلدے 283 خطبه جمعه ۲۹ راپریل ۱۹۸۸ء استغفار کی حقیقت اور اہمیت ( خطبه جمعه فرموده ۲۹ اپریل ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات تلاوت کیں : الَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا أَمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ الصَّبِرِينَ وَالصَّدِقِينَ وَالْقَنِيِّينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ ( آل عمران : ۱۷ - ۱۸) پھر فرمایا: یہ دو آیات جو میں نے آج پڑھی ہیں ان کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو یہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے پس تو ہمارے گناہ بخش اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔یہ کون لوگ ہیں الشیرین وَالصُّدِقِينَ وَالْقَنِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ یہ وہ لوگ ہیں جو صبر کرنے والے ہیں اور بچے لوگ ہیں ، وَالصَّدِقِين ہیں وَالْقُتِيْن اور عجز کرنے والے ہیں، بجز کے ساتھ خدا کے حضور مناجات کرنے والے ہیں و المتفقین اور خدا کی راہ میں اپنی طاقتیں اور اپنے رزق خرچ کرنے والے ہیں وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ اور خدا سے بخشش طلب کرنے والے ہیں صبح کے وقت۔ان آیات کریمہ میں بہت سے مضامین بیان ہوئے ہیں جن میں سے خصوصیت کے ساتھ میں دوسری آیت میں بیان کردہ صفات سے متعلق ابتداء میں کچھ کہوں گا اس کے بعد اس استغفار سے