خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 276
خطبات طاہر جلدے 276 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء اس کے قریب قریب ہی پہنچ رہے ہیں۔تو جو بھی شکل ہے حکومت نے تو اپنی الجھن مٹانے کے لئے یا شرمندگی اور ذمہ داری کو کم کرنے کے لئے اس واقعہ کو دبانا ہے ہی اور کچھ ان کی مجبوریاں ہیں۔شاید یہ بھی خیال ہو کے سارے ملک کا حوصلہ نہ بیٹھ جائے مگر بہر حال اس سے غرض نہیں کہ حکومت کن مصالح کے پیش نظر اعداد و شمار کو دبا رہی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خود حکومت کے اپنے بیانات کے مطابق جو لا پتا ہیں ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔اس لئے اب یہ بحث تو بے معنی ہے کہ لاپتا ہو کر وہ کہاں چلے گئے کیونکہ آج بائیس تاریخ ہے تو بارہ دن کا عرصہ گزر گیا ہے۔بارہ دن میں آخر وہ لا پتا کہاں چلے گئے اور اگر وہ ملبوں کے ڈھیر میں ہیں جیسا کہ خیال ہے تو پھر ان کو فوت شدہ تصور ر کرنا چاہئے۔تو حادثہ بہت ہی زیادہ خوفناک اور المناک ہے۔اس سلسلے میں مجھے خوشی ہے کہ ناظر صاحب اعلیٰ ربوہ نے فوری طور پر نہ صرف ہمدردی کا پیغام بھیجا بلکہ کچھ رقم بھی متاثر لوگوں کی خدمت کے لئے بھجوائی اور اس سے بھی ایک اور خوشی کی بات یہ ہے کہ جب تک حکومت کے ادارے مصیبت زدگان کی مدد کے لئے نہیں پہنچے اسلام آباد کی اور کچھ پنڈی (راولپنڈی) کی جماعت کے افراد، خدام اور انصار وغیرہ نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر زخمیوں کی مدد کرنی شروع کی اور بچوں کو سنبھالنا اور بہت سی خدمت کے کام شروع کر دئے۔اللہ تعالی ان کو بہترین جزا دے۔جب حکومت کے کارندے بعد میں آگئے تو پھر چونکہ انتظام میں دخل اندازی مناسب نہیں تھی پھر وہ پیچھے ہٹ گئے لیکن جب تک خدا نے ان کو توفیق دی انہوں نے بہت اچھا ردعمل دکھایا۔انگلستان کی جماعت نے بھی ہمدردی کے پیغام کے ساتھ دو ہزار پاؤنڈ کا چیک پیش کیا ہے ایمبیسڈ رصاحب کو۔اگر چہ یہ پاکستان کا معاملہ ہے لیکن ایسے حادثات کسی ایک ملک کا معاملہ نہیں رہا کرتے بلکہ وہ سب انسانوں کا سانجھا دکھ اور سانبھی تکلیف بن جاتے ہیں۔اس لئے باقی دنیا کی جماعتوں کو بھی کچھ نہ کچھ حسب توفیق ہمدردی کا اظہار کرنا چاہئے۔جب افریقہ میں بھوک پڑتی ہے یا کوئی قحط سالی کا زمانہ آتا ہے تو کوئی یہ تو نہیں کہا کرتا کہ ہم تو پاکستانی ہے، ہم تو ہندوستانی ہیں ، ہم تو انگریز ہیں یا فلاں ہیں حسب توفیق سب انسانیت اکٹھی ہو کر ہمدردی کی کوشش کرتی ہے۔یہ حادثہ جو پاکستان میں گزرا ہے یہ اس نوعیت کا ہے۔یہ کوئی چھوٹا سا ملکی حادثہ نہیں ہے۔