خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 277

خطبات طاہر جلدے 277 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء اگر چہ بیرونی میڈیا یعنی اخباروں اور ریڈیو، ٹیلی ویژن وغیرہ نے جیسا کہ حق تھا اس کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا بلکہ وہ جو واقعہ گزرا ہے ایک ہائی جیک کرنے والا اس کو تو اتنا زیادہ اچھالا گیا ہے، اتنا زیادہ اٹھایا گیا ہے کہ گویا ساری دنیا میں سب سے زیادہ خوفناک واقعہ یہ ہو اور جہاں ہزار ہا آدمی مر گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے اور شدید مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ہے ان دو شہروں کے لوگوں کو اس کو سرسری تھوڑا سا ذکر کر کے یہ بھلا بیٹھے ہیں۔اس کے متعلق مختلف آراء ہیں۔بعض کا یہ خیال ہے کہ چونکہ وہ مہاجرین کے لئے اسلحہ تھا اور امریکہ نے بھجوایا تھا اور اس بے احتیاطی میں امریکہ کے اوپر بھی ذمہ داری آتی ہے۔مغربی جو ذرائع خبروں کے وہ عمداً اس کو نہیں اٹھا ر ہے یہ وجہ ہو یا ویسے ہی اور مشرق ، دور کی باتیں ہیں وہاں کے معاملات میں اتنی ہمدردی نہیں۔کوئی بھی وجہ ہو اس واقعہ کو دنیا میں نمایاں طور پر اچھالا نہیں گیا اور نمایاں طور پر لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا مگر خطبات کے ذریعے ساری دنیا میں جماعتوں تک یہ اطلاع ملے گی۔چنانچہ سب دنیا کی جماعتوں کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اسے ایک عالمی نوعیت کا انسانی حادثہ سمجھتے ہوئے کچھ نہ کچھ حسب توفیق پاکستان کے ان مصیبت زدگان کے لئے امداد کریں اور جتنی بھی توفیق ملتی ہے اس میں کوئی تعین شرط نہیں ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ دیکھ لیا جائے کہ وہ امداد وہاں پہنچ سکتی ہے کہ نہیں۔اس لئے پاکستان کے ایمبیسیڈرز سے مل کر یا جو بھی ان کے نمائندہ ہوں ایمبیسیز کے ان سے مل کے یا بعض جگہ وہ نمائندگان نہیں ہوں گے تو دوسرے ملک سے پاکستان ایمبیسی سے خط وکتابت کے ذریعے رابطہ پیدا کر کے پوچھ لیں کہ ہمیں ہمدردی ہے ہم دعا بھی کر رہے ہیں لیکن ایک ٹوکن کے طور پر کچھ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں اگر آپ کے پاس ذرائع ہوں کہ یہ مدد ہم سے لے کر اپنے ملک میں بھجوا دیں تو ہم پیش کرنے کے لئے آگئے ہیں۔اس رنگ میں ساری دنیا کو اس سے ہمدردی کا اظہار کرنا چاہئے۔لیکن صرف یہی ہمدردی میرے خیال میں کافی نہیں۔اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مدت سے پاکستان میں کلمے کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور خدا تعالیٰ کی عبادتگاہوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور خدا کی عبادت سے بندوں کو روکا جارہا ہے اور اس معاملے میں جسارت بے حیائی کی حد تک بڑھ گئی ہے اور بڑے بڑے افسروں کو عام بیان دینے میں بھی کوئی شرم اور کوئی باک نہیں کہ ہم کہہ کیا رہے ہیں۔ایک اسلامی مملکت میں جہاں خدا کے نام