خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 274
خطبات طاہر جلدے 274 خطبه جمعه ۲۲ را بریل ۱۹۸۸ء آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ان سے اس وقت آپ جب باتیں کر رہے ہوں بچپن کی آپ وہم بھی نہیں کر سکتے کہ ذہنی طور پر کوئی بیمار ہے لیکن جب وہ آپ سے یہ سوال کرے گا کہ تم نے مجھے کھانا کھلا دیا حالانکہ آدھا گھنٹہ پہلے آپ نے کھانا کھلایا ہوگا یا پانی پلا دیا تھا حالانکہ آپ نے پلایا ہو گا۔تب آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیا با تیں کر رہا ہے اس کا ذہن فوری باتیں یا در کھنے کے قابل ہی نہیں رہا۔تو اس لحاظ سے خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے یادوں میں یہ سلسلہ پیدا کیا ہے کہ بچپن کی یا دیں وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی جاتی ہیں مٹتی نہیں ہیں اور یادوں سے مراد وہ یادیں ہیں جن کا تعلق محض دماغ سے نہ ہو دل سے ہو گیا ہو۔چنانچہ آپ بچپن کی یادوں پر جب غور کریں گے تو ہمیشہ آپ یہ محسوس کریں گے کہ وہی یاد میں پختہ ہیں جن کا دل کے ساتھ کوئی جوڑ پیدا ہو گیا تھا اور وہ مستقل ہو گئی ہیں۔جن یادوں کا دل سے جوڑ نہیں ہوا وہ سب کچھ آپ بھول جاتے ہیں۔چنانچہ رمضان شریف میں جو یا دیں آپ کو مستقل بنانی ہیں ان کا دل سے تعلق قائم کریں۔اللہ تعالیٰ کی محبت کے حوالے سے بات کریں۔حضرت رسول اکرم ﷺ کی محبت کے حوالے سے بات کریں۔بنی نوع انسان، غریب کی ہمدردی اور اس کی محبت کے حوالے سے بات کریں کہ جو باتیں آپ سکھا دیں گے وہ بچوں کے دل میں ایک دائمی نقش بن جائیں گی وہ کبھی نہیں مٹ سکیں گی۔اس لئے یہ جو برائیوں سے روکنے والی باتیں ہیں ان کا بھی اس سے تعلق پیدا کریں۔وقت ضائع کرتے ہیں اس کے متعلق کوئی ایسی باتیں جو انبیاء اور بزرگوں کی ذات سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کو بتائی جائیں کہ وہ کس طرح اپنے وقت کا استعمال کرتے ہیں ، وقت ضائع نہیں کیا جاتا اور اچھی چیزوں پر صرف کرنا چاہئے کیونکہ ہر ایک کے اپنے اپنے ڈھنگ ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ ڈھنگ عطا فرمایا ہوا ہے اگر وہ بالا رادہ کوشش کرے تو بہت کچھ اپنے بچوں کو اس مہینے میں سکھا سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں جب یہ مہینہ ختم ہوگا تو آپ حیران ہوں گے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ آپ کی نسل پہلے سے بہت بہتر معیار پر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا میں جماعتیں ہر رمضان میں پہلے سے اونچے معیار پر آجائیں گی۔اس میں شک نہیں کہ رمضان کے بعد معیار ضرور گرتا ہے مگر کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اتنا نہ گرے کہ پہلی منزل سے بھی نیچے چلا جائے۔جہاں آپ رمضان میں داخل ہوئے تھے جب رمضان سے نکلیں تو اس مقام سے بالا مقام ہو۔اس سطح سے اوپر