خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 268

خطبات طاہر جلدے 268 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء صلى الله انہوں نے بلند آواز سے رسول اکرم ﷺ کو جگانے کی خاطر یا یہ خیال کر کے کہ کسی دوسرے کام میں مصروف ہوں گے صلوۃ صلوۃ کہنا شروع کر دیا، یارسول اللہ وقت ہو گیا ہے لیکن سننے کے باوجود حضور باہر تشریف نہیں لائے اور پھر وضاحت فرمائی دوسرے دن کہ مجھے علم ہے مگر میں عمد ا نہیں آیا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ پھر بعد میں آنے والوں پر بہت بوجھ پڑ جائے گا تکلیف مالا يطاق ہو جائے گی۔(مسند احمد ) تو سنت تو رسول اکرم ﷺ نے ڈال دی تھی۔اس کے متعلق حضرت عمر نے صرف ان مزدوروں کی خاطر جو بہت تھک جایا کرتے تھے اور صبح ان کے لئے اٹھنا ممکن نہیں ہوتا تھا ایسا کیا کہ صبح تہجد کی بجائے وہ پہلے پڑھ لیا کریں اور بالعموم یہ تراویح کی رکعتیں اس زمانے میں ہیں ہیں تک بھی پڑھی جاتی تھیں جبکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سنت عموماً یہ ہے کہ آٹھ رکعتیں آپ پڑھتے تھے پھر دور کعتیں وتر کی اور پھر ایک رکعت ساری نماز کو وتر بنانے کے لئے۔تو گویا گیارہ رکعتوں کی سنت بالعموم ثابت ہے (مسلم کتاب الصلوۃ المسافر وقصرها حدیث نمبر : ۱۲۲۰)۔اسی لئے جماعت احمدیہ میں بھی قادیان میں ہمیں گیارہ رکعتیں ہی سکھائی جاتی تھیں اور رمضان کے علاوہ اس سے کم کا بھی ذکر ملتا ہے۔چار نوافل اور پھر دووتر سے پہلے کی رکعتیں اور پھر ایک وتر بنانے والی رکعت۔تو اس طرح چار نوافل اور دو اور ایک تین کل سات کا بھی ذکر ملتا ہے۔(مسلم کتاب الصلوة المسافر وقصرها حدیث نمبر : ۱۲۲۰) تو بچوں کو اگر گیارہ کی توفیق نہیں تو یہ سات رکعتوں والے نوافل پڑھانے شروع کر دیں اور ان کو بتائیں کہ یہ آنحضرت ﷺ کی سنت تھی۔چنانچہ اس سے ان کے دل میں نوافل کے لئے ایک دو ہری محبت پیدا ہوگی اور ذہن میں یہ بات جانشیں ہوگی کہ اس لئے پڑھ رہا ہوں کہ ہمارے آقا ومولا حضرت رسول اکرم ﷺ بھی اس طرح پڑھا کرتے تھے۔تو تربیت کا بہت ہی اچھا موقع ہے اور اگر بچوں کو اس وقت اس طرح سکھایا جائے تو ہر گز مشکل نہیں ہے۔چنانچہ قادیان میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تراویح کے وقت بھی بعض لوگ اس لئے اکٹھے ہوتے تھے کہ صبح نہیں اٹھ سکتے یا دقت تھی کسی لحاظ سے مگر کچھ لوگ اس لئے بھی اکٹھے ہوتے تھے کہ تراویح میں پورے قرآن کریم کا دور ہو جائے گا اور ہر روز ایک پارہ سے کچھ زائد سننے کا موقع ملے گا اور ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو پھر تہجد کے لئے بھی اٹھتے تھے۔تو یہ تو اپنی اپنی توفیق کی بات ہے،مصروفیات کی بھی بات ہے جس کو توفیق ملے اس کو تراویح کے لئے بھی لانا شروع کریں اگر تراویح کا انتظام ہے اور جہاں تک اس مسجد